نئی دہلی،10فروری (آئی این ایس انڈیا) کانگریس اور ترنمول کانگریس کی مخالفت کے درمیان حکومت نے پیر کو لوک سبھا میں آیور ویدک تعلیم اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بل 2020 پیش کیا جس میں آیور ویدک اور متعلقہ شاخوں میں تعلیم، تحقیق اور تربیت کے معیار کے لئے گجرات کے جام نگر میں واقع آیور ویدک تعلیم اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو قومی اہمیت کے انسٹی ٹیوٹ کے طور پر اعلان کرنے کا بل ہے۔ایوان زیریں میں ایش وزیر شریپد یشو نائک نے یہ بل پیش کیا۔بل پیش کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کے سوگت رائے نے کہا کہ اس کے ذریعے گجرات کے جام نگرمیں واقع آیور ویدک تعلیم اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو قومی اہمیت کا انسٹی ٹیوٹ بنانے کا انتظام کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایسا کیوں ہے کہ جو بھی ہو، وہ گجرات میں ہی ہو، جبکہ کیرالہ اور مغربی بنگال میں آیور ویدک کی سنہری روایت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کہنا چاہتے ہیں کہ آیور ویدک میں ایسا بہترین انسٹی ٹیوٹ وارانسی یا بنگال میں قائم کیا جائے۔ کانگریس کے ششی تھرور نے کہا کہ حکومت نے اس ادارے کو لے کر منظم طورپر فیصلہ کیا ہے جبکہ دیگر مقامات پر بھی آیور ویدک سے متعلقہ پرانے ادارے ہیں۔ تھرور نے کہا کہ حکومت قومی اہمیت کے انسٹی ٹیوٹ کی وضاحت کرنے میں ناکام رہی۔انہوں نے کہا کہ اس میں آیور ویدک فروغ کے وسیع مقصد کو واضح نہیں کیا گیا ہے۔اس پر آیش وزیر شریپد یشو نائک نے کہا کہ جام نگر واقع اس ادارے کا قیام 1952 میں کیا گیاتھا۔اس کے بعد وہاں گریجویٹ فیکلٹی قائم کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ابھی آیور ویدک پر ایک قومی اہمیت کا انسٹی ٹیوٹ قائم کیا جا رہا ہے اور آگے کچھ پیش آئیں گے تب ان پر بھی غور کیا جائے گا۔بل کے مقاصد اور وجوہات میں کہا گیا ہے کہ جام نگرمیں واقع آیور ویدک تعلیم اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قومی اہمیت کے ادارے کے طور پر اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ قومی اور بین الاقوامی مطالبے کے مطابق آیور ویدک کے مختلف کورسز کو آگے بڑھایا جائے اور اس فیکلٹی میں تعلیم کے معیار کو اپ گریڈ کرنے کیلئے خود مختاری فراہم کی جائے۔اس کے ذریعے آیور ویدک کے علاقے میں شدید مطالعہ اور تحقیق کرنا ہموارہوگا۔