ناگپور، 11؍اگست(آئی این ایس انڈیا )مرکز چاہتا ہے کہ لاء کمیشن پوسٹ مارٹم سے متعلق پرانے پڑ چکے قوانین کا مطالعہ کرکے ایک جامع رپورٹ پیش کرے تاکہ اس سے جڑے قوانین میں ترمیم کی جا سکے۔یہ معلومات ایک فارنسک ماہر نے دی ہے۔یہ قدم دراصل حال ہی میں مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سیواگرام کی کلینکل فارنسک اکائی کے انچارج ڈاکٹر اندرجیت کھانڈیکر کی جانب سے وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ کو 82صفحاتی ایک رپورٹ سونپے جانے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔کھانڈیکر کے مطابق وزیر اعظم کے دفتر نے حال ہی میں لاء کمیشن سے کہا کہ وہ ملک میں پوسٹ مارٹم جانچ سے متعلق قوانین کا مطالعہ کرے اور مجرمانہ قوانین سے جڑے ہر پہلو کو شامل کرنے والی ایک رپورٹ پیش کرے تاکہ پوسٹ مارٹم سے جڑے مجرمانہ ضابطہ اخلاق، ہندوستانی شواہد قانون وغیرہ جیسے مختلف قوانین میں مجموعی طور پر ترمیم کی جا سکے ۔کھانڈیکر نے رپورٹ میں کہا ہے کہ 1898سے ہی ڈاکٹر مجرمانہ ضابطہ اخلاق 174پر عمل کرتے ہیں۔اسے برطانوی حکومت نے بنایا تھا اور اب یہ پرانا پڑ چکا ہے اور اس پر صحیح طرح سے عمل نہیں کیا جاتا۔