زیب اکیڈمی بوجرہاٹ میں ’حفظ القرآن پلس کورس‘کا افتتاح ،مولانااسرارالحق قاسمی اورمولاناابوطالب رحمانی ودیگرعلماء کاخطاب
کولکاتہ، 8؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )حفاظِ قرآن کوعصری تعلیم سے جوڑنے کے لیے زیب اکیڈمی لیدرکمپلیکس بوجرہاٹ کے ذریعے’حفظ القرآن پلس کورس‘ کاآغازکیا گیا ہے جس کی افتتاحی تقریب تعلیمی بیداری تحریک کے روحِ رواں مولانااسرارالحق قاسمی ایم پی کے زیرصدارت منعقدہوئی ۔تقریب میں معزز علما، ائمہ ،مدارس کے ذمہ داران او ردانشوران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں مولانا قاسمی نے اسلام میں تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے پُرمغزخطاب کیا۔ انھوں نے کہاکہ اسلام کی بنیادہی علم پرہے ،لہذااسلام میں ہروہ علم حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جودونوں جہان میں انسان کے لیے مفید ثابت ہو،چنانچہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو دینی ودنیوی تعلیم سے آراستہ کریں۔مولانانے مزید کہاکہ میری یہ دلی خواہش تھی کہ شمالی ہند میں بھی حفاظ کرام کے لئے کرٹاٹک کے شاہین اکیڈمی بیدر کے طرز پر ایسا ادارہ قائم کیاجائے جس میں حفاظ شریعت پر عمل پیرا رہتے ہوئے عصری تعلیم حاصل کرسکیں۔اللہ جزائے خیرعطافرمائے زیب اکیڈمی کے ذمہ داران اوراس سلسلے میں کوشاں سبھی حضرات کوکہ انھوں نے’حفظ القرآن پلس کورس‘کی داغ بیل ڈال کر نسلِ نو کو دینی وعصری تعلیم سے جوڑنے کی عملی کوشش کی۔ مدرسہ عظمتیہ کے مہتمم وامامِ عیدین قاری فضل الرحمن نے اپنی تقریرمیں حفاظِ قرآن کو عصری تعلیم سے جوڑنے کے منصوبہ بند اقدام کو سراہتے ہوئے کہاکہ زیب اکیڈمی نے حفاظ کو عصری تعلیم دینے کا جوسلسلہ شروع کیاہے وہ طلبا کے لئے نہایت مفید ہے ۔طلبا کے اسلامی تشخص وماحول میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انھوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ اگلے سال اپنے مدرسے سے فارغ ہونے والے خواہشمندحفاظ کواس اکیڈمی میں داخل کروائیں گے۔بیلگچھیہ کے معروف عالم دین حکیم مولانا عبدالرحمن جامی نے کہاکہ اکیڈمی میں داخل طلبہ کے لیے قرآن کریم کو یادرکھنے،نمازوں کی پابندی کرنے اور شرعی وضع قطع میں رہنے جیسی شرائط نہایت قیمتی ہیں جس سے کورس کی افادیت میں اورزیادہ اضافہ ہوگیاہے۔ اس کے لیے ماہرتعلیم وملی رہنما حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی، اکیڈمی کے صدر حاجی نیازاحمد،اے ایم یواولڈبوائزکے جنرل سکریٹری انجینئروقاراحمدخان ،زیب اکیڈمی کے سکریٹری محمد تبریزاور پوری ٹیم مبارکبادکی مستحق ہے۔کورس کی افادیت و اہمیت کے تعلق سے اپنے تأثرات کا اظہارکرتے ہوئے انڈین علماکونسل کے صدرمولاناابوطالب رحمانی نے کہا کہ چوں کہ اکابرکی سرپرستی میں یہ کورس شروع کیاگیاہے ،اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ اس کامستقبل تابناک ہوگااوراسِ سے کولکاتہ کے حفاظ کرام کے ساتھ قرب وجوار کی ریاستوں کے حفاظ بھی استفادہ کرکے اپنے مستقبل کو روشن کرسکیں گے۔دارالعلوم اسراریہ سنتوش پورکے متہمم مولانانوشیراحمدنے کہاکہ زیب اکیڈمی کے ذریعہ شروع کیے جانے والے’’حفظِ قرآن پلس کورس‘‘ کی افادیت کو دیکھتے ہوئے سنتوش پور مدرسے سے فارغ ہونے والے 24حفاظ میں سے چھ طلبا کوزیب اکیڈمی میں داخل کروایا گیا ہے۔زیب اکیڈمی کے مفتی عبدالکریم قاسمی نے حاضرین کوادارے کے اغراض ومقاصداورمستقبل کے عزائم سے آگاہ کیاجس پر محمدی مسجد مٹیا برج کے امام مولانا مشرف حسین حبیبی سمیت سبھی حاضرین نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے وقت کی اہم ضرورت بتایا۔اس پروگرام میں حصہ لینے والوں میں بہو بی بی مسجد کے امام مفتی عبدالمتین،دارالعلوم حمیدیہ کے مہتمم مولانا ندیم ندوی، مومن پور بوڑھی مسجد کے امام مولانا اشرف علی،مدرسہ خیرالنساء کے مہتمم مولانا خورشیدندوی ،نورانی مسجد کمر ہٹی کے امام مفتی جلیل، مسجدِ عمر فاروق کے امام مولانا مظہر امام، ملت نگر مدرسہ کے مفتی عبدالمعیداورمولاناعبدالحئ ، مدرسہ رحیمیہ کے استادحدیث مولانا مرتضیٰ قاسمی،مدرسہ بیت العلوم کے حافظ ممتاز،ناخدامسجدکے حافظ عبدالعزیز اور عالیہ یونیورسٹی کے لکچرر پروفیسر مستقیم کے نام خاص طورپرقابلِ ذکرہیں۔کورس اورداخلہ کے تعلق سے مزیدتفصیلات کے لیے انجینئروقاراحمدخان کے اس نمبر9331037356پررابطہ کیاجاسکتاہے۔