تہران،3اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایران نے پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کی جانب سے سعودی قیادت میں بننے والے اسلامی عسکری اتحاد کی قیادت سنبھالنے کے معاملے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کی جانب سے پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر مہدی ہنردوست کے حوالے سے ایک بیان میں حکومت پاکستان کی جانب سے سابق فوجی سربراہ کو قیادت قبول کرنے کے لیے این او سی جاری کرنے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ ایران کی جانب سے نئے فوجی اتحاد پر پہلا ردعمل ہے۔یاد رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے 34 اسلامی ملکوں کے اس اتحاد کے اغراض و مقاصد تفصیل سے جاری نہیں کیے گئے ہیں لیکن سعودی حکام یہ بات کہہ چکے ہیں کہ یہ اتحاد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف کام کرے گا۔سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک خطے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہیں۔گزشتہ جمعرات کو سعودی شہر ریاض میں خلیجی ممالک کے وزراء کے اجلاس میں بحرین میں دہشت گردوں کے گروہوں کی پشت پناہی کرنے پر ایران کی مذمت کی گئی اور ایران پر زور دیا گیا کہ وہ فرقہ واریت کو ہوا نہ دے۔اس اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں ایران کی طرف سے سلطنتِ بحرین کے بارے میں جاری ہونے والے بیانات کی جنہیں اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا گیا مذمت کی گئی۔
دوسری طرف یمن میں سعودی فوجی کارروائیوں کے بارے میں عالمی سطح پر مختلف غیر سرکاری امدادی ایجنسیوں اور کئی ملکوں کی طرف سے بھی اضطراب اور تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔گزشتہ ہفتے ہی یمن میں کارروائی کرنے والی سعودی فوج کے سربراہ احمد اسیری کے برطانیہ کے دورے کے دوران ایک ناخوشگوار واقع پیش آیا جب جنگ کے خلاف کام کرنے والی تنظیم کے رکن نے یمن میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سعودی عرب کے خلاف نعرے بازی کی اور احتجاج کیا۔