ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / عدالت عظمی نے آسارام کو نہیں دی عبوری ضمانت، میڈیکل بورڈ قائم کیا

عدالت عظمی نے آسارام کو نہیں دی عبوری ضمانت، میڈیکل بورڈ قائم کیا

Thu, 11 Aug 2016 19:55:49    S.O. News Service

نئی دہلی، 11؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے آج عصمت دری کے ایک معاملے میں آسارام کو عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا اور ایمس سے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل کر کے ان کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست پر غورکرنے سے پہلے ان کی صحت کی حیثیت معلوم کرنے کو کہا۔جسٹس ایم بی لوکڑ اور جسٹس آر کے اگروال کی بنچ نے کہا کہ ایمس کے تین رکنی ڈاکٹر پینل 75سالہ آسارام کی صورت حال معلوم کرکے 10دن میں اپنی رپورٹ سونپے گا۔بنچ نے کہا کہ ہم درخواست گزار کو راحت دینے کے حق میں نہیں ہیں ۔ہم ایمس کے ڈائریکٹر کو درخواست گزار کی صحت کی حیثیت کی جانچ کرنے کے لئے تین ڈاکٹرکا پینل قائم کرنے اور دس دن میں رپورٹ سونپنے کی ہدایت دیتے ہیں۔آسارام کو 31اگست 2013کو جودھپور پولیس نے گرفتار کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ جیل میں بند ہیں۔آسارام کی جانب سے پیش سینئر وکیل راجو رام چندرن نے کہا کہ ہائی کورٹ کی ہدایت پر قائم میڈیکل بورڈ کی رائے ہے کہ ان کی صحت کی حیثیت بگڑ رہی ہے۔رام چندرن نے انہیں ایک یا دو ماہ کی عبوری ضمانت منظور کرنے کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مطابق، انہیں کیرالہ جانا ہے جہاں انہیں پچکرم(آئرویدک کے ذریعہ علاج)کرانا ہے کیوں کہ اس طرح کے علاج کے لئے وہاں آب و ہوا صحیح ہے۔عبوری ضمانت نامنظور کرنے کے راجستھان ہائی کورٹ کے حکم کے حوالہ میں رام چندرن نے دلیل دی کہ عدالت نے آسارام کو راحت نہیں دے کر غلطی کی ہے۔بنچ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک اور میڈیکل جانچ ہونی چاہئے۔بنچ نے کہا کہ ایمس درخواست گزار کی تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ دے گا۔واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے 9 اگست کو عصمت دری معاملے میں آسارام کی ضمانت کی درخواست مسترد کی تھی۔


Share: