ممبئی،29جنوری(آئی این ایس انڈیا)آئی آئی ٹی بمبئی نے منگل کو ہاسٹل قوانین کا ایک نیا خاکہ جاری کیا ہے۔اس میں ملک مخالف اور غیر سماجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی وارننگ دی گئی ہے۔گزشتہ ہفتے کے طالب علموں کے ایک گروپ نے انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کو ایک کھلا خط لکھا تھا، جس میں انہوں نے احاطے کو غیر سیاسی رکھنے کے لئے ان پر تنقید کی تھی۔دستور العمل (رولس) میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کیمپس کے سکیورٹی کو شرپسندوں پر کارروائی کرنے کے لئے مکمل حق حاصل ہے۔اسٹوڈنٹس افیئرز ایسوسی ایٹ ڈین پروفیسر جارج میتھیو کے ذریعے بھیجے گئے 15 قوانین والی دستور العمل میں 10 ویں پوائنٹ میں کہا گیا ہے کہ یہاں رہنے والے لوگ کسی بھی ملک مخالف، غیر سماجی یا کسی ناپسندیدہ سرگرمیوں کا حصہ نہیں بنیں گے۔
ہاسٹل دستور العمل میں ’اینٹی نیشنل‘ لفظ کے استعمال پر طلبہ ناراض ہو گئے ہیں۔بتا دیں کہ حال ہی میں آئی آئی ٹی بمبئی کے ڈائریکٹر سبھاشیش چودھری نے طالب علموں سے کہا تھا کہ وہ اپنے سیاسی خیالات کیمپس کے باہر ظاہر کریں۔اس بیان کے بعد یہ دستور العمل طالب علموں کے سامنے رکھاگیا ہے۔اس پر ایک گروپ نے تین ہزار الفاظ کے خط میں ڈائریکٹر کے رویے پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔اتنا ہی نہیں انہوں نے جے این یو سکالر شرجیل امام کی حمایت میں ایک بیان بھی جاری کیا تھا، جسے منگل کو غداری کے معاملے میں گرفتار کیا گیا۔
ایک طالب علم نے کہا کہ نئے قوانین ان اسٹوڈنٹس کو ٹارگیٹ کرتے ہوئے جاری کئے گئے ہیں، جو مظاہروں میں حصہ لے رہے ہیں۔شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ہو رہے مظاہروں کا حصہ رہے ایک طالب علم نے بتایاکہ یہ میل آج آیا ہے۔ طالب علم نے یہ بھی کہاکہ اس سے پہلے ادارہ بیوروکریسی کے قوانین، انسٹی ٹیوٹ کی پالیسیوں کے پیش نظر سرگرمیوں اور پروگراموں کے لئے اجازت لینے کی بات کر رہا تھا۔اب انہوں نے راستہ نکال لیا ہے اور قوم مخال کی زبان کی بات کر رہا ہے۔سی اے اے کی حمایت کرنے والے ایک طالب علم نے کہاکہ کیا قوم پرستی ہے اور کیا ملک مخالف، یہ آپ کو کس طرح کی وضاحت کر رہے ہیں؟ جو لوگ شرجیل امام کی حمایت کر رہے ہیں وہ ملک مخالف ہیں۔