بنگلورو۔18؍نومبر(ایس او نیوز)شہر میں برہت بنگلور مہانگر پالیکے کے تمام وارڈوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت اور اس مسئلہ کو سلجھانے میں بنگلور واٹر سپلائی اینڈ سوریج بورڈ کی مبینہ لاپرواہی پر آج بی بی ایم پی کونسل میٹنگ میں تمام کارپوریٹروں نے پارٹی امتیازات سے بالاتر ہوکر بی بی ایم پی افسران کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کارپوریٹروں نے کہاکہ بی ڈبلیو ایس ا یس بی افسران کو فون کرکے شکایات کئے جانے کے باوجود بھی کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ فوری طور پر ان لوگوں نے مطالبہ کیا کہ بی ڈبلیو ایس ایس بی کے اعلیٰ افسران کو طلب کرکے ان کی باز پرس کی جائے۔آج کیمپے گوڈا کونسل ہال میں شہر میں پینے کے پانی کے مسئلے پر تبادلۂ خیال کیلئے طلب کردہ خصوصی میٹنگ میں کارپوریٹروں نے کہاکہ بی ڈبلیو ایس ایس بی کی طرف سے شہر کے تمام وارڈوں میں ایک تو پانی کی مسلسل فراہمی کا کوئی نظام تیار نہیں کیا گیا ہے تو دوسری طرف پانی کی لائنوں سے رساؤں کو روکنے کیلئے کوئی قدم اٹھایا نہیں گیاہے۔ان کارپوریٹروں نے کہاکہ ان چھوٹی موٹی شکایات سے نمٹنے کیلئے بھی کم از کم پندرہ دنوں کا عرصہ لیا جارہا ہے۔ان کارپوریٹروں نے میٹنگ کی صدر میئر پدماوتی سے مخاطب ہوکر کہاکہ فوری طور پر بی ڈبلیو ایس ایس بی افسران کو میٹنگ میں طلب کرکے اس صورتحال کیلئے انہیں آڑے ہاتھوں لیا جائے۔ حکمران پارٹی کے سابق لیڈر ستیہ نارائنا نے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ بی ڈبلیو ایس ایس بی کو پہلے ہی یہ ہدایت دی جاچکی ہے کہ شہر کے تمام اپارٹمنٹوں کو یہ سخت تاکید کی جائے کہ ان کے احاطہ میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم ہونا چاہئے، لیکن بی ڈبلیو ایس ایس بی کی لاپرواہی کے نتیجہ میں شہر کے کسی بھی اپارٹمنٹ میں ایسا کوئی پلانٹ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ شہر میں پانی کے پائپوں کو بچھانے کیلئے بی ڈبلیو ایس ایس بی کو کھدائی کا کتنا وقت درکار ہے، یہ واضح طور پر پتہ لگایا جائے تاکہ تمام پانی کے پائپوں کی تبدیلی کے بعد سڑکوں کی بیک وقت مرمت کی جائے۔ صورتحال فی الوقت یہ ہے کہ ہر نئی سڑک کو پانی یا ڈرینج کے پائپ بچھانے کے بہانے بی ڈبلیو ایس ایس بی کے کارکن کھود دیتے ہیں اور نئی سڑک بچھانے کے باوجود علاقوں کے عوام اس کھدائی کے بعد مقامی کارپوریٹر کو کوستے ہیں۔ واضح طور پر میئر بی ڈبلیو ایس ایس بی سے دریافت کرلیں کہ شہر کے تمام علاقوں میں پانی اور ڈرینج کے پائپوں کی تبدیلی کا کام کتنے مہینوں تک چلے گا؟۔ اس کے بعد ہی سڑکوں کی تجدید ومرمت کی جائے۔اپوزیشن لیڈر پدمانابھا ریڈی نے کہاکہ شہر میں آبرسانی کی ذمہ داری بی ڈبلیو ایس ایس بی کو ہونے کے باوجود پانی کے رساؤ کو روکنے کا ذمہ ایک پرائیویٹ کمپنی زیکا کو دیا گیا، بعد میں یہ کنٹراکٹ اس سے واپس لے کر ایل اینڈ ٹی کے سپرد کیا گیا ہے، فوری طور پر یہ یقینی بنایا جائے کہ اس کمپنی کی طرف سے پانی کے رساؤکو روکنے کیلئے قدم اٹھائے جائیں۔ اس موقع پر دیور جیونہلی کے کارپوریٹر سمپت راج نے کہاکہ بی ڈبلیو ایس ایس بی کی طرف سے ہونے والی کھدائی کی آڑ میں پانی اور ڈرینج کے لائنوں کے ساتھ آپٹک فائبر کیبل بچھایا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ میان ہولس میں بھی آپٹک فائبر کی لائنیں بچھادی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شہر بھر میں جابجا کھدائی کے باوجود پچھلے دیڑھ سال سے بی ڈبلیو ایس ایس بی نے کہیں بھی پانی کی فراہمی کے ایک پراجکٹ کو پورا نہیں کیا ہے۔ منورائن پالیہ کے عبدالواجد نے کہاکہ پینے کے پانی کے پائپس دس سال میں ایک مرتبہ زنگ آلود ہوتے ہیں ، بی ڈبلیو ایس ایس بی کی طرف سے ان پائپوں کی تبدیلی پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔شہر میں خاص طور پر ان کے وارڈ میں بورویلوں کی مرمت پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ بعض بڑے اپارٹمنٹس کو افزود پانی فراہم کرنے کیلئے بی ڈبلیو ایس ایس بی کے والمینوں نے اپنا ایک مافیا بنالیا ہے۔ ان علاقوں میں 9 انچ کی بجائے بارہ انچ کے پائپ بچھائے جاتے ہیں اور اپارٹمنٹوں کو پانی مہیا کرانے کیلئے موٹے پائپوں سے کنکشن دیا جاتا ہے۔ دیگر کارپوریٹروں نے بھی اس موقع پر اپنے اپنے وارڈوں میں پانی اور ڈرینج کی ناقص صورتحال کا خلاصہ کیا اور فوری طور پر اس سے نمٹنے کیلئے اقدامات پر زورد یا۔