ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / شمس الزماں انصاری کو سرسید احمد خان ایوارڈ 

شمس الزماں انصاری کو سرسید احمد خان ایوارڈ 

Tue, 09 Aug 2016 18:23:18    S.O. News Service

نازیہ الہیٰ خان کو بیگم رقیہ سخاوت ایوارڈ 
کولکاتہ،9 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )تعلیم کو انقلاب زمانہ کا ہتھیار بناکر ملت کے نونہالو ں کو اس زیور سے آراستہ کرنے کا نیک مشن لے کر چلنے والی کولکاتامسکان فا?نڈیشن نے کل شام ہگلی ضلع کے رشڑا میں اپنا دوسرا سالانہ تعلیمی جلسہ منعقد کیا جس کی صدارت شاہی امام اور مفتی اعظم مولاناسید نورالرحمن برکتی مجددی نے کی اور مہمان معظم کے طور پر ممبرپارلیمنٹ (راجیہ سبھا) اور بنگلہ روزنامہ قلم کے مدیر احمد حسن عمران شریک بزم ہوئے۔ اپنی بے پناہ مصروفیتوں سے وقت نکال کر شاہی مسجد سے رشڑا کے چمپاروڈتک کا سفر کرنے والے محترم شاہی امام کی شرکت نے مجلس کو فاؤنڈیشن کے جلسہ کو نورانی اور عرفانی رنگ دے دیا۔ مولانا نے اپنے صدارتی خطبہ میں تعلیم کے موضوع پر سیرحاصل گفتگو کی اور حدیث نبوی کے حوالے سے علم وعمل کی افادیت پر روشنی ڈالی اور اپنے فرمودات عالیہ سے اہالیان رشڑا کو سیراب کیا۔انہوں نے مسکان فا?نڈیشن کی تعلیمی کمیٹی کے چیئرمین فیروز انجم کی اس نیک کاوشوں کو داد و تحسین سے بھی نوازا۔ممبر پارلیمنٹ احمد حسن عمران نے سلیس بنگلہ زبان میں مضافات میں درس و تدریس کے مسائل اٹھائے اور جوٹ صنعتوں سے وابستہ اس بستی کی پسماندگی پر نئے زاویہ سے روشنی ڈالتے ہوئے ممتابنرجی کی قیادت والی ریاستی حکومت کی فلاحی اسکیموں سے زیادہ سے زیادہ فیض حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ پارلیمنٹ کے بارانی اجلاس میں شرکت کیلئے پابہ رکاب ہونے کے باوجود احمد حسن عمران نے مسکان فاؤنڈیشن کے اراکین کی حوصلہ افزائی کیلئے اس جلسہ میں شرکت کی اور اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔بعدازاں فاؤنڈیشن نے کولکاتا اور مغربی بنگال کے مسلمانوں کی تعلیمی بہتری کیلئے ہمہ وقت سرگرم رہنے والے ملت کے دردمنداور خیر خواہ ایم آئی سی کولکاتا میونسپل کاپوریشن جناب شمس الزماں انصاری کوسرسید احمد ایوارڈ‘ بزم شہر نشاط کے روح رواں اور ملت کے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کیلئے ہمہ وقت تیار تعلیم دوست جناب بلال حسین صاحب کو مولانا آزاد ایوارڈ نیز خواتین کی بہتری ‘ لڑکیوں کی تعلیم کیلئے سرگرم رہنے والی سماجی کارکن معروف ایڈوکیٹ محترمہ نازیہ الہیٰ خان کو بیگم رقیہ سخاوت ایوارڈ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ یہ تینوں ایوارڈ مولانائے محترم سیدنورالرحمن برکتی کے ہاتھوں ان معززین کو پیش کیا گیا۔ 
ایوارڈ قبول کرنے والے شمس الزماں انصاری نے مسکان کی کارکردگی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ علم اور عمل پر یقین رکھتے ہیں۔علم کی ترویج و اشاعت کیلئے وہ تن من دھن سے حاضرہیں ہر ضرورت مند طالب علم جو پڑھنا چاہتا ہے اسے وہ کسی بھی طرح کی مالی دشواری پیش نہیں آنے دیں۔انہوں نے اپنے علاقہ مٹیابرج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وہاں غریب اور نادار بچوں کیلئے مولانا محمد علی جوہر اسکول قائم کیا ہے جہاں مفت میں تمام بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے اور یہ اسکول ان تمام سہولتوں سے مزین ہے جو بڑے بڑے پرائیویٹ اسکولوں میں ہیں حتیٰ کہ انہوں نے غریب رکشا ٹھیلہ والوں کے بچوں میں علم کے حصول کی کی لگن پیدا کرنے کیلئے اسکول کو سینٹرل ایئر کنڈیشن بنایا ہے تاکہ بچے موسم کی سختی سے بے پرواہ ہوکر پورے سکون اور یکسوئی سے تعلیم حاصل کریں۔ شمس الزماں انصاری نے اس موقع پرمسکان کے ذمہ داران سے وظیفہ کی رقم جانی اور جب انہیں یہ پتہ چلا کہ 80بچوں کو فی کس دو ہزار روپئے دیئے جارہے ہیں تو انہوں نے اسی وقت اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اسی وقت ان بچوں کو 2کے بجائے 3ہزار روپئے دیئے جائیں اورا نہوں نے اپنی جیب سے نقد80ہزار روپئے دیئے جو مسکان فا?نڈیشن نے وظیفہ کی رقم میں شامل کرکے طلبا کے حوالے کیا۔ نیز شمس الزماں انصاری نے اپنی نوازش خسروانہ کا سلسلہ یہیں ختم نہیں کیا انہوں نے یہ کہا کہ اگلے سال سے ہر طالب کو فی کس 5ہزار روپئے دیئے جائیں گے اور 40طلبا کی ذمہ داری ان کی ہے ان کیلئے وہ دو لاکھ روپئے فراہم کریں اور انہوں نے اسی مجلس میں نقد ایک لاکھ روپئے مسکان کے ارباب جنوں کے حوالے کیا۔بزم شہر نشاط کے روح رواں اورمسکان فاؤنڈیشن کے سرپرست بلال حسن نے طلبا و طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ رشڑا جیسی پسماندہ بستی میں مسکان کے ذمہ داران نے جو کام شروع کیا ہے وہ بے مثال ہے اس سے قبل رشڑا میں ایسا کوئی سلسلہ نہیں تھا کہ بچوں کی تعلیم کے تعلق سے حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں جیت کی جوت جگائی جائے۔ انہوں نے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ اگلے سال سے مسکان کے ذمہ داران بڑی جگہ اور شہر کے کسی بڑے آڈیٹوریم میں اپنا سالانہ جلسہ کریں اس کیلئے وہ تمام خرچ برداشت کریں گے۔
بیگم رقیہ سخاوت ایوارڈ قبول کرنے والی شہر کی معتبر خاتون قائد‘ معروف سماجی کارکن ایڈوکیٹ محترمہ نازیہ الہیٰ خان نے مسکان نے بیگم رقیہ ایوارڈ دے کر ان کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری ڈال دی ہے وہ خدا سے دعاگوہیں جو کام بیگم رقیہ سخاوت نے آزادی سے قبل بنگال کیلئے کیا تھا وہ اس کا عشرعشیر بھی کرسکیں۔ نازیہ الہیٰ خان نے بچیوں اور بچوں میں کسی تفریق کے بغیر علم کے حصول پر زور دیا اور کہا کہ بچیاں جتنی بیوٹی کانسیس ہوتی ہیں اگر اتنی ہی ایجوکیشن کانسیس ہوجائیں تو ملت کی کایاپلٹ ہوجائے گی۔انہوں نے بچیوں کو مختلف مثالوں سے سمجھایا اورا ن میں علم کے حصول کی لگن کا جذبہ پیدا کیا۔جلسہ سے خطاب کرنے والوں میں عبدالعزیز نے عزت و ذلت کو خدائی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سچی عزت دینے والا اللہ ہی ہے دنیاوی مال و دولت‘ اقتدار اور حکمرانی کسی کی عزت و قدر و منزلت کا سبب نہیں بن سکتی ہے علم اور اللہ کی نصرت انسان کو عزت بخشتی ہے۔اسی دوران لیپ ٹاپ کی حقدارقرار پانے والی بچیوں کومہمانوں کے ہاتھوں لیپ ٹاپ عطاکیاگیا۔بعدازاں مادھیامک اور ہائر سیکنڈری امتحانات 2016میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے تقریباً80بچوں کو کل وقتی وظیفہ 3ہزار روپئے فی کس دیاگیا۔اسی دوران لیپ ٹاپ کی حقدارقرار پانے والی بچیوں کو مہمانوں کے ہاتھوں لیپ ٹاپ عطا کیا گیا۔ بعدازاں مدھیامک اور ہائر سیکنڈری امتحانات 2016 میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی تقریباً 80 بچوں کو کل وقتی وظیفہ 3ہزار روپئے فی کس دیاگیا۔رشڑا کے اس تعلیمی جلسہ میں جناب ایس ایم ذکی،پروفیسر ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا، جناب عبد العزیز (صحافی)، جناب قمر الدین ملک، ڈاکٹر شکیل احمد خان ،شری شو بھنکر سرکار، شری برہم دیو روی داس (کونسلر)،رفعت قریشی، محمد عبد اللہ، جناب ابن حمید چاپدانوی (صحافی) مہمان خصوصی کی حیثیت شریک ہوئے۔ پروگرام کی نقابت بین الاقوامی شہرت یافتہ نقیب شکیل انصاری نے کی اورا ن کے بعد سرفراز احمد نے نظامت کی ذمہ داری اداکی۔یادرہے کہ سیرام پور اسمبلی حلقہ میں پڑنے والی اس بستی میں آزادی کے بعد سے اب تک کی یہ پہلی مثال ہے کہ کسی ادارہ نے علم اور تعلیم کے محاذپرانقلاب کا نہ صرف بیڑا اٹھایا ہو بلکہ اس انقلاب کی آہٹ بھی لوگوں کو سنائی دی ہو۔جلسہ کو کامیاب و کامران بنانے میں کولکاتا مسکان فاؤنڈیشن کے ممبران ڈاکٹر نظیر حیدر، پرویز انجم، ماسٹر احسان احمد‘ افروز ثاقب، سرفراز احسن، نسیم پرویز،محمدصادق، کلیم اختر وجد، شوکت علی،شمیم قیصر،انور علی منا اور ماسٹر اعجاز احمدپیش پیش رہے۔یادرہے کہ سیرام پور اسمبلی حلقہ میں پڑنے والی اس بستی میں آزادی کے بعد سے اب تک کی یہ پہلی مثال ہے کہ کسی ادارہ نے علم اور تعلیم کے محاذپرانقلاب کا نہ صرف بیڑا اٹھایا ہو بلکہ اس انقلاب کی آہٹ بھی لوگوں کو سنادی ہو۔ 


Share: