بیروت،12جنوری(آئی این ایس انڈیا)لبنان کے نو منتخب صدر میشل عون نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے عرب مصلحت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ شام کی جنگ میں لبنانی شہریوں کی شرکت حکومت کا فیصلہ نہیں۔
لبنانی صدر میشل عون نے ان خیالات کا اظہار اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران العربیہ پر نشر ہونے والے پروگرام ترکی الدخیل کے ساتھ میں خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر منتخب ہونے کے بعد سعودی عرب پہلا ملک ہے جس نے انہیں دورے کی دعوت دی تھی۔انہوں نے کہا کہ مجھے سعودی عرب کا دورہ کرکے خوشی ہوئی۔ سعودی عرب پہلا ملک جس نے مجھے دورے کی دعوت دی تھی۔ میں سعودی عرب آیا تاکہ بہت سے امور میں پائے جانے والے شبہات کا ازالہ کرسکوں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب وہ ملک ہے جس کے ساتھ ہم دوستی کے انداز میں پروان چڑھے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں۔ ہمیں اپنا اپنا موقف ایک دوسرے کے ساتھ واضح کرنا ہے۔ لبنان نے عرب مصلحت کے خلاف بالخصوص سعودی عرب کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔لبنانی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے دورہ سعودی عرب کے بعد بیروت اور ریاض کے درمیان تعلقات اپنے فطرے دھارے میں واپس آگئے ہیں۔ دونوں ملک چاہتے ہیں کہ ان کے باہمی تعلقات ماضی کی طرح خوش گوار انداز میں آگے بڑھیں۔
ایک سوال کے جواب میں لبنانی صدر میشل عون نے کہا کہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے سیاحوں کا لبنانی سیاحت کے فروغ میں بنیادی کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں جاری خانہ جنگی اور اس کے بعض خطرات کے پیش نظر لبنان میں موجود سعودی شہریوں کو واپس اپنے ملک جانے کی تجویز پیش کی تھی۔ مگر اس نصیحت اور تجویز نے کئی قسم کے شکوک وشبہات کو جنم دیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے سیاح دوبارہ لبنان کے لیے اپنا سفر جلد بحال کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہ سلمان کا سعودی شہریوں کے لبنان کے سفر کے لیے موقف واضح ہے۔اسی ضمن میں ایک سوال کے جواب پر صدر عون نے کہا کہ سوائے ٹریفک حادثات کے اب غیرملکی شہریوں اور خلیجی سیاحوں کے لیے لبنان میں کوئی مشکل باقی نہیں رہی ہے۔ ہم خلیجی ممالک کے سرمایہ کاروں کو بھی خوش آمدید کہیں گے۔ لبنان سعودی شہریوں کے لیے اوپن مارکیٹ کی حیثیت رکھتا ہے اور ہم سعودی باشندوں کو لبنان میں سرمایہ کاری کی خصوصی طور پر دعوت دیتے ہیں۔
شام کی جنگ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر عون نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ لبنان سے کسی دوسرے ملک کو گزند پہنچے۔ ہم شام سے دہشت گردوں کے لبنان داخلے کو بھی روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لبنان کی بعض تنظیموں کے عناصر کا شام کی جنگ میں حصہ لینا حکومت کا فیصلہ یا ریاست کی پالیسی ہرگز نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کی حیثیت سے مجھے کسی کے خلاف اور کسی کے حق میں رائے دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ میں تمام لبنانی شہریوں کا نمائندہ ہوں۔ شام کی خانہ جنگی کے حوالے سے لبنان میں کئی قسم کی آراء پائی جاتی ہیں۔ بہتر اور عقل سلیم کے لیے قابل قبول موف مثبت غیر جانب داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں شام کے مسئلے کے سیاسی حل کا پرزور حامی ہوں کیونکہ غیرملکی مداخلت باہر سے جنگ بھڑکانے کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔
لبنان کے مسلح گروپوں بالخصوص حزب اللہ کے اسلحہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر مشل عون نے تسلیم کیا کہ حزب اللہ کی مسلح کارروائیاں لبنانی قوم میں تقسیم کا موجب ہیں۔ بالخصوص کسی لبنانی گروپ کا دوسرے ملک میں جا کر لڑنا اور اپنی متوازی فوج تیار کرنا باعث تشویش ہے۔ اگرچہ انہوں نے حزب اللہ کا نام نہیں لیا مگر ان کا کہنا تھا کہ میں مزاحمت کا حامی ہوں دہشت گردی کا نہیں۔ میں ایسے کسی گروپ کے ساتھ نہیں ہو اندرون ملک اسلحہ کا کھلے عام استعمال کرے۔صدر عون نے فوج کو جدید جنگی وسائل سے لیس کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید جنگی وسائل کی فراہمی سے لبنانی فوج کی دفاعی صلاحیت بہتر بنائی جاسکتی ہے۔ دوست ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں معاون ثابت ہوگا۔