ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بابری مسجد انہدام پر اظہارِ افسوس کو ملک دشمنی نہیں کہا جا سکتا: بامبے ہائی کورٹ

بابری مسجد انہدام پر اظہارِ افسوس کو ملک دشمنی نہیں کہا جا سکتا: بامبے ہائی کورٹ

Wed, 29 Jul 2026 19:00:02    S O News

ممبئی ، 29/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)بامبے ہائی کورٹ نے ایک اہم آئینی فیصلے میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے مہاراشٹر جنرل سیکریٹری سعید احمد عبدالواحد چودھری کے خلاف جاری ایک سالہ جلاوطنی (Externment) کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت، احتجاج منظم کرنا یا اختلافی رائے کا اظہار کسی شہری کو ملک دشمن یا امن عامہ کے لیے خطرہ قرار دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ’’بابری مسجد کو منہدم نہیں کیا جانا چاہیے تھا‘‘ کہنا بذاتِ خود کوئی ملک دشمن یا غیر آئینی بیان نہیں ہے۔ یہ مقدمہ ۴۹؍ سالہ سعید احمد عبدالواحد چودھری کی درخواست پر سنا گیا، جنہیں ممبئی پولیس نے دسمبر ۲۰۲۵ء میں ممبئی اور اس سے ملحقہ علاقوں سے ایک سال کے لیے جلاوطن کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں کوکن ڈویژن کے ڈویژنل کمشنر نے مارچ ۲۰۲۶ء میں اس حکم کو برقرار رکھا۔ چودھری نے ان دونوں احکامات کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

پولیس نے جلاوطنی کے حق میں پانچ ایف آئی آرز کا حوالہ دیا، جن میں زیادہ تر مقدمات شہریت ترمیمی قانون (CAA) ، گیان واپی مسجد تنازع، اور دیگر مرکزی حکومتی فیصلوں کے خلاف منعقد کیے گئے احتجاج، دھرنوں اور جلوسوں سے متعلق تھے۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ درخواست گزار کی سرگرمیاں امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ تاہم عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ اس دعوے کی تائید کے لیے کوئی قابل اعتماد مواد پیش نہیں کیا گیا۔ سماعت کے دوران جسٹس مادھو جمدار نے ممبئی پولیس سے سخت سوالات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا تمام شہریوں کو حکومتِ ہند کا غلام بنایا جا رہا ہے؟ وہ احتجاج نہیں کر سکتے، وہ آواز نہیں اٹھا سکتے، یہ سب کیا ہے؟‘‘

امتحانی پرچہ لیک ہونے کے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’’اب اتنے سارے پرچے لیک ہوئے ہیں۔ اگر لوگ احتجاج کریں گے تو آپ ان پر مقدمے درج کر دیں گے؟ احتجاج کرنا شہریوں کا حق ہے۔‘‘ عدالت نے پولیس سے یہ بھی استفسار کیا کہ صرف حکومت مخالف نعرے لگانے پر کسی شخص کو جلاوطن کیسے کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس جمدار نے کہا کہ ’’درخواست گزار نے صرف ’’بی جے پی حکومت مردہ باد‘‘ اور ’’امیت شاہ مردہ باد‘‘ جیسے نعرے لگائے ہیں۔ شہری ایسے نعرے کیوں نہیں لگا سکتے؟ صرف ان نعروں کی بنیاد پر جلاوطنی کا حکم کیوں؟‘‘ عدالت نے مزید سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’پولیس، وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم کی ملازم نہیں ہے، وہ عوام کی خدمت گار ہے۔ میں آپ کے افسران پر بھاری جرمانہ عائد کرنے پر غور کر رہا ہوں۔‘‘

سماعت کے دوران جسٹس جمدار نے ہلکے پھلکے انداز میں مہاراشٹر میں جاری سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے رجحان پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے درخواست گزار سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’آپ بھی پارٹی بدل لیجیے... پورے مہاراشٹر میں ہارس ٹریڈنگ چل رہی ہے۔ آپ پر کچھ ایف آئی آرز ہیں... پارٹی بدلنے پر غور کیجیے، ایک ’’واشنگ مشین‘‘ موجود ہے۔‘‘ عدالت نے اپنے تحریری حکم میں واضح کیا کہ درخواست گزار نے اپنی سیاسی حیثیت میں مرکزی حکومت کے بعض فیصلوں کے خلاف مورچے، دھرنے اور احتجاج منظم کیے، لیکن صرف یہی بات مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت جلاوطنی کا جواز نہیں بن سکتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ’’درخواست گزار نے حکومتِ ہند کے بعض فیصلوں کے خلاف مورچے اور دھرنے منظم کیے۔ صرف یہ بات کسی شخص کو مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت جلاوطن کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ یہ کارروائی بدنیتی (mala fide) پر مبنی ہے۔ آئین کے آرٹیکل ۱۹؍ اور ۲۱؍ کے تحت شہریوں کو نہ صرف اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے بلکہ باوقار زندگی گزارنے کا بھی حق حاصل ہے۔‘‘


Share: