مینگلورو 25/جولائی (ایس او نیوز): نیٹ (NEET) امتحان کے خلاف جاری احتجاج کے دوران بہار کے ایک سڑک حادثے کی ویڈیو کو احتجاج سے جوڑ کر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تاثر پھیلانے کے الزام میں کرناٹک بی جے پی کے ایم ایل سی (MLC) سی ٹی روی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، سی ٹی روی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ نیٹ احتجاج کے دوران پیش آنے والا واقعہ ہے۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ احتجاج میں مسلمان شامل ہو کر ہندو طلبہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم بعد میں فیکٹ چیک اور میڈیا رپورٹس سے واضح ہوا کہ ویڈیو کا نیٹ احتجاج سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ یہ بہار میں پیش آئے ایک الگ سڑک حادثے کی تھی۔
اس معاملے پر شکایت موصول ہونے کے بعد چکمگلورو ٹاؤن پولیس نے سی ٹی روی کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کی ان دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جو مختلف طبقات کے درمیان دشمنی، مذہبی منافرت اور عوامی امن کو متاثر کرنے والی گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ سے متعلق ہیں۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، شکایت میں کہا گیا ہے کہ ایک غیر متعلقہ حادثے کی ویڈیو کو موجودہ احتجاج سے جوڑ کر نہ صرف عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ مذہبی بنیادوں پر نفرت اور کشیدگی پیدا کرنے والا تاثر بھی دیا گیا۔ اسی بنیاد پر پولیس نے قانونی کارروائی عمل میں لائی۔