تہران، 29/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) ایران نے امریکہ کے اس اعلان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے کہ خلیجی کشیدگی کے دوران متاثر ہونے والے جہازوں کو معاوضہ ایران کے منجمد اثاثوں سے ادا کیا جائے گا۔ ایرانی فوج کی مرکزی کمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک یا شپنگ کمپنی ایران کے منجمد اثاثوں سے معاوضہ قبول کرے گی، اس کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق، فوجی کمان کے ایک ترجمان نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان دعوؤں کو غیرقانونی اور ناقابل قبول سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق خلیجی علاقے میں جہازوں کو پہنچنے والا نقصان ایران کی کارروائیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ امریکہ کی فوجی سرگرمیاں غیر یقینی اور غیر محفوظ صورتحال کا باعث بنیں۔
ترجمان نے کہا کہ متعلقہ جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایسے بحری راستے استعمال کر رہے تھے جنہیں ایران غیرقانونی اور غیر محفوظ تصور کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ملک یا کمپنی نے ایران کے منجمد اثاثوں سے معاوضہ وصول کیا تو ایرانی مسلح افواج ایسے تمام جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں گی۔
اس سے ایک روز قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ اپنے زیرِ کنٹرول موجود ایرانی فنڈز کو ان جہازوں کے نقصانات کی تلافی کے لیے استعمال کرے گا جو آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوران متاثر ہوئے تھے۔ انہوں نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی حکومت اپنے خزانے سے شپنگ کمپنیوں کو معاوضہ ادا نہیں کرے گی بلکہ اس مقصد کے لیے ایران کے منجمد اثاثے استعمال کیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے کہا، ’’ہم ایران کے پیسے سے وہ نقصان پورا کریں گے جو ان کی وجہ سے ہوا ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ کے پاس ایران کے کتنے اثاثے موجود ہیں، کن شپنگ کمپنیوں کو معاوضہ دیا جائے گا یا ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں بہتر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں اور ایران نے بات چیت کے دوران حملے روکنے کی درخواست کی تھی۔