ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / شام پر حملوں کے لئے روسی بمبار طیارے ایران منتقل

شام پر حملوں کے لئے روسی بمبار طیارے ایران منتقل

Tue, 16 Aug 2016 18:15:54    S.O. News Service

ماسکو،16اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)روس نے اسٹرٹیجک اہمیت کے بمبار طیارے مغربی ایران کے شہر ہمدان کے ہوائی اڈے منتقل کر دیئے ہیں۔ روسی ٹیلی ویژن کے مطابق اس اقدام کا مقصد ’’انتہا پسند مسلح افراد‘‘کو نشانہ بنانا ہے۔روسی ذرائع ابلاغ نے TU-22M3طرز کے اسٹرٹیجک طیاوں کو ایران کے ایک ہوائی اڈے پر کھڑے دکھایا گیا ہے۔روس ۔ 24نیوز چینل نے اپنے سولہ اگست کے نشریئے میں بتایا ہے کہ روسی طیاروں کی ایران منتقلی کا مقصد حملے کے دوران طویل مسافت کو 60فیصد تک کم کرنا ہے۔چینل کے مطابق TU-22M3اسٹرٹیجک طیاروں کا ہدف شام میں دہشت گرد بتائے جاتے ہیں۔واضح رہے کہ شام میں حملوں کے لئے روس اپنے جنوبی علاقے میں واقع اوسیا شمالی ریپبلک کے فوجی اڈوں کو استعمال کر رہا ہے کیونکہ شام میں واقع حمیمیم ائر بیس اس طرز کے بھاری بھرکم اسٹرٹیجک جہازوں کی آمد ورفت کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
گوانتاناموبے کے امریکی حراستی مرکز سے 15قیدیوں کو متحدہ عرب امارات منتقل کر دیا گیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق گزشتہ کئی برسوں کے دوران اس حراستی مرکز سے قیدیوں کی رہائی کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قیدیوں کی حالیہ منتقلی کے بعد گوانتاموبے کے امریکی حراستی مرکز میں اب 61قیدی باقی رہ گئے ہیں۔ نائن الیون حملوں کے بعد امریکی فوج کی نگرانی میں چلنے والے اس حراستی مرکز میں قریب 780قیدیوں کو رکھا گیا۔امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات منتقل کیے جانے والے 15قیدیوں میں سے 12کا تعلق یمن سے جبکہ تین کا افغانستان سے ہے۔یمنی قیدیوں کے حوالے سے پینٹاگون کو قبل ازیں کسی ایسے تیسرے ملک کی تلاش میں مشکلات درپیش تھیں جو انہیں اپنے ہاں رکھ سکے۔ اس کی وجہ یمن میں جاری جنگ ہے جس کی بناء پر انہیں یمن واپس بھیجنا ممکن نہیں تھا۔
پینٹاگون کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، انسانی بنیادوں پر اس عمل اور گوانتاناموبے کو بند کرنے کی امریکی کوششوں میں مدد پر آمادگی پر امریکا متحدہ عرب امارات کی حکومت کا مشکور ہے۔اے ایف پی کے مطابق گزشتہ مثالوں میں گوانتاناموبے سے منتقل کیے جانے کے بعد قیدیوں کو نگرانی اور بحالی کے پروگراموں میں شرکت کے بعد رہا کر دیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل یو ایس اے نے امریکی حکومت کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے امریکی صدر باراک اوباما کی طرف سے اپنے مدت صدرات کے خاتمے سے پہلے گوانتانامو کے متنازعہ حِراستی مرکز کو بند کرنے میں سنجیدگی سے تعبیر کیا ہے۔باراک اوباما آئندہ برس کے آغاز میں اپنی مدت صدرات ختم ہونے سے قبل گوانتاناموبے کے حراستی مرکز کی فوری بندش چاہتے ہیں مگر ری پبلکن پارٹی کے ارکان پارلیمان کی طرف سے ان کی کوششوں کو مسلسل روکا جاتا رہا ہے۔ تاہم امریکا حالیہ مہینوں کے دوران اس حراستی مرکز میں موجود قیدیوں کی منتقلی کی رفتار میں تیزی لے آیا ہے۔ جب باراک اوباما نے امریکی صدارت کا عہدہ سنبھالا تھا تو اس وقت گوانتانامو میں 242قیدی موجود تھے۔ پینٹاگون کی طرف سے پیر 15اگست کے اعلان کے بعد گوانتاناموبے میں اب 19ایسے قیدی رہ گئے ہیں جنہیں دیگر ممالک میں منتقل کیے جانے کے لیے کلیئرنس دی جا چکی ہے۔


Share: