نئی دہلی، 11؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )پارلیمنٹ نے آج سینٹرل ایگریکلچر یونیورسٹی کے دائرہ اختیار کے تحت شمال مشرقی علاقہ کی ریاست ناگالینڈ رکو لانے کے لحاظ سے سینٹرل ایگریکلچر یونیورسٹی ایکٹ 1992میں ترمیم والے ایک بل کو منظوری دے دی۔راجیہ سبھا نے وزیر زراعت رادھاموہن سنگھ کی طرف سے غور کے لیے پیش کئے گئے سینٹرل ایگریکلچر یونیورسٹی ترمیمی بل 2016کو بغیر بحث کے صوتی ووٹنگ کے ذریعہ منظور کرلیا،لوک سبھا سے اسے پہلے ہی منظور ی مل چکی ہے۔بل کو بحث کے لیے رکھتے ہوئے وزیر زراعت رادھاموہن سنگھ نے کہا کہ یہ بل کئی سالوں سے زرعی تعلیم سے محروم ناگالینڈ کی ترقی کو رفتار فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اس یونیورسٹی کے دائرہ اختیار میں شمال مشرقی ریاست پہلے سے ہی تھی ۔اس بل کے ذریعے ان میں ناگالینڈ کو شامل کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔مرکزی زرعی یونیورسٹی ایکٹ 1992میں میزورم لفظ کے بعد ناگالینڈ لفظ کو شامل کر دیا گیا ہے۔بل کے مقاصد اور وجوہات میں کہا گیا ہے کہ سینٹرل ایگریکلچر یونیورسٹی ایکٹ 1992کو شمال مشرقی علاقے میں زراعت کی ترقی کے لیے ایک یونیورسٹی کے قیام اور اس کی شمولیت نیز اس علاقے میں زراعت اور سائنس سے متعلق تعلیم میں تیزی لانے اور تحقیقی کام کے لیے بنایا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ایکٹ کے تحت شمال مشرقی علاقے کی تعریف اور سینٹرل ایگریکلچر یونیورسٹی کے دائر اختیار کے تحت ناگالینڈ ریاست نہیں آتی تھی ، اس لیے سینٹرل ایگریکلچر یونیورسٹی ایکٹ 1992میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے سینٹرل ایگریکلچر یونیورسٹی کے دائر اختیار کے تحت ریاست ناگالینڈ کو داخل کیا جا سکے۔