نئی دہلی، 25؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سینٹرل ویجلنس کمیشن(سی وی سی )نے سی بی آئی سے دھوکہ دہی کے بڑے معاملات پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ( ای ڈی) کے ساتھ معلومات شیئر کرنے کو کہا ہے تاکہ منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعات کو جانچ کی سطح پر ہی لاگو کیا جا سکے۔سی وی سی بدعنوانی کے معاملات میں جانچ کو لے کر سی بی آئی کے کام کاج کی نگرانی رکھتا ہے۔کروڑوں روپے کی کارپوریٹ دھوکہ دہی کے معاملے سامنے آئے ہیں اور اس کے پیش نظر یہ فیصلہ آیا ہے۔حکام نے آج کہا کہ سی وی سی نے سی بی آئی سے دھوکہ دہی کے بڑے معاملات پر متعلقہ معلومات ای ڈی کے ساتھ شیئر کرنے کو کہا ہے تاکہ منی لانڈرنگ کی روک تھام قانون کی دفعات کو جانچ کی سطح پر ہی لاگو کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اس سے جانچ کی سطح پر ہی فراڈ کر نے والوں کے خلاف سخت قدم اٹھانے میں مدد ملے گی۔ذرائع نے کہا کہ ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جہاں سی بی آئی بعد میں ای ڈی کو شامل کرتی ہے اور کئی بار اہم سراغ ختم ہو جاتے ہیں اور ملزمان کو سزا دینے میں یا ان کی طرف جس بلیک منی کو سفید میں تبدیل کر دیا گیا، اس کا پتہ لگانے میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق سی بی آئی نے متعلقہ معلومات ای ڈی کے ساتھ شیئر کرنا شروع کر دیا ہے۔متعلقہ معاملے میں 50کروڑ روپے سے زیادہ کی دھوکہ دہی کے مقدمات درج کرانے کے لیے سی بی آئی کو عوامی شعبے کے بینکوں کے لیے نوڈل اتھارٹی بنایا گیا ہے۔جوائنٹ ڈائریکٹر کی سطح کے ایک افسر کو بینکوں سے دھوکہ دہی کی شکایت حاصل کرنے کے لیے سی بی آئی میں اجازت دی گئی ہے۔اس طرح کی رپورٹ ملنے کے بعد افسر ایجنسی کے کسی سیل کی طرف سے تحقیقات کی سفارش کر سکتے ہیں جن میں اینٹی کرپشن سیل، اقتصادی کرائم سیل یا بینک سیکورٹی اور دھوکہ دہی سیل ہیں۔