نئی دہلی، 22/اگست(ایس او نیوز/ایجنسی)سنٹرل ویجی لنس کمیشن(سی وی سی)نے 2022 کی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے انکشاف کیاہے کہ بدعنوانی کے جن معاملات میں مرکزی تفتیشی بیورو(سی بی آئی)نے تحقیقات مکمل کی ہیں، ان میں سے 6841مقدمات عدالت میں زیر التوا ہیں۔ ان پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ ان میں سے 313معاملے ایسے ہیں جنہیں عدالت تک پہنچنے میں 20سال سے زیادہ کا وقت لگا ہے۔
سی وی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 31دسمبر 2022تک سی بی آئی کے پاس 692معاملے زیر التوا تھے، جن کی جانچ مرکزی حکومت کو کرنی تھی، ان میں سے 42معاملے ایسے ہیں جن کی جانچ شروع ہوئے5سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، جب کہ سی بی آئی کو ایک سال کے اندر تفتیش مکمل کرنی ہوتی ہے۔سی وی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کچھ معاملات میں تحقیقات مکمل کرنے میں تاخیر ہوئی ہے۔ تاخیر کی کچھ وجوہات میں کام کا بوجھ، افرادی قوت کی کمی اور دور رہنے والے گواہوں کو تلاش کرنے میں لگنے والا وقت شامل ہے۔
واضح رہے کہ سی وی سی نے 11 اگست کو سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں تمام محکموں کے خلاف موصول ہونے والی شکایات اور ان کے ازالے کی معلومات موجود ہیں۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ کرپشن کی 1.15 لاکھ شکایات کمیشن تک پہنچی تھیں۔ مرکزی وزارت داخلہ کے ملازموں کے خلاف بدعنوانی کی سب سے زیادہ 46 ہزار شکایات موصول ہوئیں۔