نئی دہلی، 18 فروری (آئی این ایس انڈیا)ملک میں متنازع شہریت ترمیم قانون لاگو ہونے کے بعد کئی جگہوں مخالفت میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔دہلی کا شاہین باغ احتجاج کا مرکز بنا ہوا ہے۔کئی لیڈر بھی اس معاملے پر حکومت پر مسلسل حملہ بول رہے ہیں۔اب سابق لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا ہے کہ ملک میں شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ میں مسلم خواتین کو جڑ تے دیکھنا اچھا لگتا ہے۔لوک سبھا کی سابق اسپیکر سمترا مہاجن نے شہریت ترمیم قانون کے خلاف دہلی اور ملک کے دوسرے حصوں میں ہو رہے احتجاج میں خواتین کی شرکت کی تعریف کی اور کہاکہ چاہے دہلی ہو یا اندور، مسلم خواتین کا گھروں سے نکل کر احتجاج میں شامل ہونے سے ان کا اعتماد بڑھے گا۔اس سے ان میں بیداری بڑھے گی اور وہ مستقبل میں ناانصافی کے خلاف آواز اٹھا سکیں گی۔یہ اچھی بات ہے کہ اب وہ سڑکوں پر اتر کر اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔
سمترا مہاجن نے کہاکہ خواتین کا کسی مسئلے پر رائے رکھنا اچھی علامت ہے،اب بڑی تعداد میں مسلم خواتین شہریت ترمیم قانون کے خلاف ہو رہی مخالفت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں،اگرچہ مجھے یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ خواتین مسئلے کو صحیح سے سمجھ رہی ہیں کہ نہیں۔یہ مسلم خواتین گھروں سے نکل کر زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگا رہی ہیں،میں مسلم سماج کے لوگوں کو اس کے لئے شکریہ اداکرتی ہوں، کیونکہ اس سے پہلے خواتین گھر سے باہر نہیں نکلتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ میں خدا سے دعا کرتی ہوں کہ مسلم خواتین کا گھر سے نکلنا ملک کے لئے مستقبل میں اچھا ثابت ہو۔سمترا مہاجن نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے میں درخواست کرتی ہوں کہ وہ ان خواتین کی شرکت کو آگے بھی یقینی بنائیں،جب مہاجن سے پوچھا گیا کہ سی اے اے کی وجہ سے کچھ مسلم لیڈر بی جے پی کو کیوں چھوڑ رہے ہیں؟اس پر مہاجن نے کہا کہ مسلم لیڈروں کو انہیں اپنے معاشرے کے لوگوں کو کچھ چیزیں وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے پوری امید ہے کہ وہ جلد ہی لوگوں کو سمجھانے میں کامیاب ہوں گے کہ سی اے اے سے کسی ہندوستانی کی شہریت نہیں جائے گی۔