نئی دہلی، 11؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )جھوٹی شان کے قتل سے فکر مند چیف انفارمیشن کمشنر(سی آئی سی)نے مرکز اور ریاستی حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر کسی جوڑے کو ان کی زندگی اور آزادی کو لے کر خطرہ محسوس ہو رہا ہے تو عدالت میں شادی کرنے کی خواہش رکھنے والے جوڑے کے لئے منشور شامل کریں۔انفارمیشن کمشنر شری دھرآاچاریل نے یہ بھی تجویز دی کہ خصوصی شادی قانون کے تحت رجسٹرار کے سامنے شادی کے دوران جوڑے پولیس سیکورٹی کا بھی مطالبہ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کا منشور تھانہ حکام کو بھیجا جانا چاہیے جومعاملے میں جانچ کر سکتے ہیں اور ایس ایچ او اگر خطرے کو صحیح پاتا ہے تو جوڑے کو تحفظ دینے کے لئے کافی اقدامات اٹھا سکتا ہے۔بہر حال کمیشن نے ایس ڈی ایم یا شادی حکام کو ہدایت دی کہ خصوصی شادی قانون کے تحت شادی کا 30دن کا نوٹس یقینی بنایا جائے جو آر ٹی آئی قانون کی دفعہ 4:1(ڈی)کے تحت کی ضرورت ہے تاکہ متعلقہ شخص(والدین سمیت)اس بارے میں جان سکیں اور اگر اعتراض ہو تو ظاہر کر سکیں۔خصوصی شادی قانون کے تحت شادی تبھی ہو سکتی ہے جب اس سلسلے میں نوٹس کی ایک کاپی ایس ڈی ایم کی طرف سے دفتر کے نوٹس بورڈ پر لگائی جائے۔انفارمیشن کمشنر نے کہاکہ نوٹس جاری ہونے کے 30دن کے اندر کوئی بھی شخص ہونے والی شادی کو لے کر اعتراض جتا سکتا ہے۔ایسے معاملے میں ایس ڈی ایم شادی نہیں ہونے دے سکتے جب تک کہ اعتراض حاصل ہونے کے 30دن کے اندر اس پر فیصلہ نہیں کر لیا جاتا۔