نئی دہلی، 9/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی)کوہدایت دی ہے کہ وہ ممبئی کی حاجی علی درگاہ میں تزئین کاری کا منصوبے 30/جون تک تیار کرے اور سپریم کورٹ کو رپورٹ سونپے۔سپریم کورٹ نے منگل کو درگاہ ٹرسٹ کی اس بات کے لے تعریف کی کہ اس نے درگاہ کے آس پاس سے غیر قانونی قبضوں کو ہٹانے کا کام کیاہے۔معاملے کی اگلی سماعت تین جولائی کو ہوگی۔اس سے قبل سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ تجاوزات ہٹانا ہی ہوگا۔سماعت کے دوران ٹرسٹ نے کہا کہ بامبے ہائی کورٹ نے 908مربع میٹر تجاوزات ہٹانے کی ہدایت دی تھی جس میں سے 171مربع میٹر مسجد کی جگہ ہے، سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ فی الحال اس کو رہنے دیں لیکن باقی تجاوز ات کو ہٹانا ہو گا۔غورطلب ہے کہ حاجی علی درگاہ میں خواتین کے داخلہ پر پابندی کے خلاف بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حاجی علی درگاہ ٹرسٹ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔پچھلی سماعتوں کے دوران ٹرسٹ نے کہا تھا کہ وہ خواتین کو درگاہ میں داخل ہونے دینے کو تیار ہیں۔ٹرسٹ کے وکیل گوپال سبرامنیم نے کہا تھا کہ درگاہ کے داخلی حصے میں خواتین کے داخلے کے لیے راستہ بنا دیا جائے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ ٹرسٹ یہ مانتا ہے کہ قرآن کریم میں عبادت کے لیے مردوں اور عورتوں کو یکساں حق دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے حاجی علی درگاہ ٹرسٹ سے کہا کہ وہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے میں کوئی مداخلت نہیں کر رہے ہیں۔کورٹ نے ٹرسٹ کی دلیلوں کو ریکارڈ میں درج کرتے ہوئے کہا کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو لاگو کریں۔پچھلی سماعتوں میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اگر درگاہ کے ایک حصہ تک مردوں کو جانے کی اجازت ہے اور خواتین کو نہیں،تو یہ دقت کی بات ہے۔ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ درگاہ کو ترقی پسندانہ موقف کے ساتھ عدالت آنا چاہیے۔عدالت نے پوچھا کہ سبریمالا مندر اور اس معاملے میں کیا فرق ہے؟ دونوں میں ہی خواتین کے داخلہ پر پابندی ہے۔کیا دونوں کو سماعت کے لیے ایک ساتھ منسلک کر دیا جائے؟۔