نئی دہلی، 26؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)راجیہ سبھا ایم پی ششی کلا پشپا کے خلاف ان کے دو گھریلو ملازموں کی طرف سے درج کرائے گئے جنسی تشدد کے معاملے میں سپریم کورٹ نے ان کی گرفتاری پر 6 ہفتے کی روک لگا دی ہے۔چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائے چند رچوڑ کی بنچ نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ نکالی گئی انا ڈی ایم کی لیڈر کی پیشگی ضمانت کی درخواست پر جلد فیصلہ لے۔عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ درخواست پر عدالت عظمی کے فیصلہ سے متاثر ہوئے بغیر فیصلہ لے گا۔پشپا کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل سدھارتھ لوتھرا نے کہا کہ ان کی موکل فرارنہیں ہونے جا رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ وہ راجیہ سبھا رکن ہیں اور وکالت نامے میں کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہائی کورٹ نے انہیں سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔لوتھرا نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ہو سکتا ہے کہ تمل ناڈو میں داخل ہوتے ہی انہیں گرفتار کر لیا جائے۔اس سے پہلے 11؍اگست کو دہلی ہائی کورٹ نے تمل ناڈو حکومت سے کہا تھا کہ پشپا، ان کے شوہر اور بیٹے کے خلاف 22؍اگست تک وہ کوئی بھی تادیبی کارروائی نہ کرے۔ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں سے بھی کہا کہ اس وقت تک کسی راحت کے لیے وہ تمل ناڈو میں کسی مناسب عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔حالانکہ عدالت نے معاملے کی کارروائی پر روک لگانے سے متعلق کوئی بھی حکم نہیں دیا۔پشپا کی تمل ناڈو میں واقع رہائش گاہ پر مبینہ طور پر کام کرنے والے گھریلو ملازموں نے زیادتی کا الزام لگاتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی۔اس سے پہلے دہلی ہائی کورٹ نے پشپا کو پارلیمنٹ تک سیکورٹی مہیا کروانے کی ہدایت دی تھی۔وزارت داخلہ اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرکے پشپا کی اس درخواست پر جواب بھی مانگا تھا جس میں انہوں نے راجیہ سبھا سیشن کے دوران سیکورٹی کی اپیل کی تھی۔ڈی ایم کے ممبر پارلیمنٹ تروچی شیوا کے ساتھ دہلی ہوائی اڈے پر تنازعہ کے بعد پشپا کو انا ڈی ایم کے سے نکال دیاگیا تھا۔