ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سپریم کورٹ جموں وکشمیر بازآبادکاری ایکٹ کے جواز پر چھ ہفتے بعدسماعت کر ے گا

سپریم کورٹ جموں وکشمیر بازآبادکاری ایکٹ کے جواز پر چھ ہفتے بعدسماعت کر ے گا

Tue, 16 Aug 2016 18:41:31    S.O. News Service

نئی دہلی،16اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس پرفل پنت اور جسٹس اے ایم خانولکر پر مشتمل سپریم کورٹ کی ڈویزن بنچ نے آج کہاکہ پنتھرس پارٹی کی بازآبادکاری ایکٹ1982کے جواز کو چیلنج کرنے والی عرضی پر چھ ہفتے بعد حتمی سماعت ہوگی۔جموں وکشمیر حکومت کے وکیل نے اس معاملے میں ایک عرضی دیکر سپریم کورٹ سے کچھ مہلت مانگی ہے۔پنتھرس پارٹی نے اس وقت کے رکن اسمبلی اور جنرل سکریٹری جناب ہرش دیو سنگھ کے ذریعہ 1947سے1954کے درمیان پاکستان چلے جانے والے جموں وکشمیر کے لوگوں کوبازآبادکاری قانون کے تحت واپس لاکرجموں وکشمیر میں بسانے کے قانون کو چیلنج کیا تھا۔یہ قانون1981میں شیخ محمد عبداللہ کی سربراہی والی جموں وکشمیر اسمبلی نے منظور کیا تھاجسے سینئروکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے 1982میں سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے چیلنج کیا تھا۔اس وقت گورنر جناب بی کے نہر و نے اس بل پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا اور اسے اسمبلی کو واپس بھیج دیا تھا۔گونرر نہرو نے اس وقت کے صدر گیانی ذیل سنگھ کو بھی اسے بھیجا تھا۔اسی دوران جناب اٹل بہاری واجپئی نے جو اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر تھے، ایک عرضی کے ذریعہ سپریم کورٹ سے خودکو فریق بنانے کی درخواست کی تھی۔یہ معاملہ راشٹر پتی بھون میں 1982سے 2001تک دبا رہا۔ 2001میں یہ معاملہ میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے زیرِ غور آیا تھا جس کے جواب میں سپریم کورٹ نے تین الفاظ’واپس،باعزت،بغیرجواب‘ کے ساتھ راشٹرپتی بھون واپس بھیج دیا تھا۔ اس معاملے کے کو پنتھرس پارٹی نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن کے ذریعہ 2001میں اٹھایا جسے سپریم کورٹ نے سماعت کیلئے منظورکرلیااورپھر2008میں سپریم کورٹ کی ڈبل بنچ نے اسے آئینی بنچ کو بھیج دیا۔یہ معاملہ 2008سے 2016تک زیرِالتوا تھا۔پروفیسر بھیم سنگھ نے آج ڈویزن بنچ کے سامنے کہا کہ یہ معاملہ آٹھ برسوں سے زیرالتوا ہے اور اس معاملہ میں عدالت کو جلد از جلد فیصلہ سناناچاہئے۔ اس معاملے میں پروفیسر بھیم سنگھ کی مسٹر بی ایس بلوریا، جناب نوید حسین نائک ، مسٹر ڈی کے گرگ اورمسترستیش وج وکلاء نے مددکی۔


Share: