ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سری نگر : پولیس کارروائی میں مارے گئے شخص کی لاش قبر سے نکالی گئی 

سری نگر : پولیس کارروائی میں مارے گئے شخص کی لاش قبر سے نکالی گئی 

Thu, 18 Aug 2016 21:01:25    S.O. News Service

سری نگر ، 18؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے شہر کے بٹمالو علاقے میں 10؍جولائی کو مبینہ طور پر پولیس کی کارروائی میں ہلاک ہوئے شخص کی لاش کو آج ضلع اور سیشن جج کی موجودگی میں قبر سے نکالا گیا۔ایک پولیس افسر نے بتایاکہ یہاں کے قبرستان سے شبیر احمد میر نام کے شخص کی لاش کو قبر سے نکالا گیا ہے۔موت کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔اس کے لیے لاش کو اسپتا ل لے جایا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے 12؍اگست کو 26سالہ شخص کی لاش کو قبر سے نکالنے اور ضلع اور سیشن جج کی موجودگی میں اس کا ٹیسٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔متوفی کے والد عبد الرحمن میر نے سری نگر کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ(سی جی ایم )کے سامنے درخواست دائر کرکے الزام لگایا تھا کہ 10؍جولائی کو پولیس نے ان کے بیٹے کو ان کے گھر میں ہلاک کر دیا ۔اس میں انہوں نے ڈپٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ یاسر قادر ی سمیت پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اپیل کی تھی۔حالانکہ پولیس کا دعوی ہے کہ نوجوان کی موت وادی میں مظاہرے کے دوران ہوئی ہے ۔دو مختلف موقعوں پر سی جی ایم نے سری نگر کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ کو پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی ہے۔ریاستی حکومت نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں آئی پی سی کی دفعہ 561اے کے تحت سی جی ایم کے حکم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم عدالت نے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے قانون کے مطابق معاملہ کو آگے بڑھانے کا حکم دے دیا۔بعد میں سری نگر کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس بھیج کر سی جی ایم کی عدالت نے پوچھا تھا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے؟عدالت نے کشمیر کے آئی جی کو ملزم پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت بھی دی ۔جب پولیس انسپکٹر جنرل نے احکامات پر عمل نہیں کیا تو سی جی ایم نے ان کے اور سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کی ۔اس درمیان ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت کی درخواست دائر کر دی۔عدالت عظمی نے 9 ؍اگست کو دونوں افسران کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی پر روک لگا دی تھی۔


Share: