ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سرکاری افسران کی بے پروائی۔۔۔منڈگوڈمیں اسکول کی عمارت آدھی ادھوری !

سرکاری افسران کی بے پروائی۔۔۔منڈگوڈمیں اسکول کی عمارت آدھی ادھوری !

Mon, 15 Aug 2016 20:27:37    S.O. News Service

منڈگوڈ 15؍اگست (ایس او نیوز) کئی دفعہ اسکولوں کی کمزور عمارتوں کی دیواریں یا چھت کے گرجانے سے اسکولی طلباء کے زخمی ہونے اور کبھی کبھار ہلاک ہونے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ لیکن سرکاری افسران کی آنکھیں ایسے حادثات سے بھی کھلنے کا نام نہیں لیتی۔ اور وہ طلباء کی حفاظت کے پیش نظر ایسی کمزور یا آدھی ادھوری عمارتوں کا جائزہ لینے اور ان کی مرمت کرنے کا کام انجام دینے کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے۔

ایسی ہی ایک مثال منڈگوڈ تعلقہ کے ہُندگُند گاؤں کی ہے جہاں پرسرکاری اردو لوئیر پرائمری اسکول کی تعمیر شروع ہوکر 10سال کا عرصہ گزر گیا۔ اور عوامی نمائندوں اور سرکاری افسران کی بے توجہی کی وجہ سے ابھی تک یہ عمارت نامکمل حالت میں کھڑی ہوئی ہے۔حالت یہ ہے کہ دیوار کی اینٹیں بارش کی وجہ سے کمزور ہوکر ادھر اُدھر سے کھسکنے اور گرنے کے قریب پہنچ گئی ہیں۔اور لگتا ہے کہ کچھ عرصے میں پوری عمارت گر کر زمین بوس ہوجائے گی۔لیکن سرکاری افسران کو جیسے اس کی کوئی فکر اور پروا ہے ہی نہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ سرکاری کاغذات میں اسکول کی تعمیر مکمل ہوکر اس کا افتتاح بھی ہوچکا ہے۔مگر عمارت کی طرف دیکھو تو حیرت اور خوف سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔کیونکہ ایسی خستہ حالت والی عمارت میں پڑھائی کرنے والے طلباء اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اندر داخل ہوتے ہیں۔چونکہ ان معصوم بچوں کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہے کہ وہ کس حد تک خطرناک ماحول میں جی رہے ہیں اس لئے وہ یہاں پڑھائی کے ساتھ بے خوف ہوکر کھیل کود میں مصروف نظر آتے ہیں۔
اس اسکول میں ایک سو سے زیادہ طلباء زیر تعلیم ہیں۔دیواروں میں پڑے ہوئے شگاف اشارہ کررہے ہیں کہ کسی بھی وقت کوئی جان لیواحادثہ رونما ہوسکتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اسکول عمارت کی اس خستہ اور مخدوش حالت کے بارے میں اسکول کی ایس ڈی ایم سی کے اراکین اور پنچایت کے ذمہ داران نے بلاک ایجوکیشن افسر کو پوری طرح آگاہ کیا ہے ، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
عوام یہ سوال بھی کررہے ہیں کہ سال ۲۰۰۶ میں تعمیر شروع کرکے نامکمل عمارت ہونے کے باوجود اپنا پورا بل وصول کرلینے والے ٹھیکے دار کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جارہی ہے؟اور افسران کے منھ پر اس سلسلے میں تالے کیوں پڑے ہوئے ہیں؟خدشہ اس بات کا جتایا جارہا ہے کہ ٹھیکیدار کی کوتاہی اور افسران کا کرپشن اور فرائض سے غفلت کی قیمت کہیں معصوم بچوں کو چکانی نہ پڑجائے ۔


Share: