سرسی25/ دسمبر (ایس او نیوز) گھاٹ والے علاقے میں موجود تعلقہ جات کو ملا کر ایک نیا ضلع تشکیل دینے اور سرسی کو ضلع ہیڈ کوارٹر بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سنیچر کو سرسی شہر میں زبردست احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا ۔ جس کے دوران زو سرکل پر ٹائر بھی جلائے گئے۔
سرسی ضلع ہوراٹا سمیتی کی قیادت میں شہر کی اہم سڑکوں سے گزرتے ہوئے ریلی میں شریک مظاہرین نے ایک عام اجلاس منعقد کیا ، جس سے خطاب کرتے ہوئے ہوراٹا سمیتی کے صدر اوپیندرا پائی نے کہا کہ موجودہ حالات میں سرسی کو ایک نیا ضلع بنانا انتہائی ضروری ہوگیا ہے ۔ فی الحال کاروار کو جو ضلع ہیڈ کوارٹر کا درجہ حاصل ہے وہ گھاٹ کے علاقہ میں بسنے والے عوام کے لئے بہت دوری پر واقع ہے ۔ اس لئے ترقیاتی نکتہ نظر سے ضلع شمالی کینرا کو دو حصوں میں تقسیم کرکے سرسی کو ایک نیا ضلع بنانا چاہیے ۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اسمبلی اسپیکر وشویشور ہیگڈے کاگیری اس سلسلے میں سرگرم ہونگے اور سرسی کو نیا ضلع بنانے کے لئے ضروری اقدام کریں گے ۔
احتجاج میں شامل ضلع کانگریس صدر بھیمنا نائک نے کہا کہ ہمارا مقصد کاروار ضلع کو توڑنا نہیں ہے بلکہ سرسی و اطراف کے عوام کی سہولت اور ترقی کے لئے اسے نیا ضلع تشکیل دینا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرسی کو ضلع بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کیا جانے والا یہ 40 واں احتجاجی مظاہرہ ہے ۔ بی جے پی کے ضلعی ترجمان سدانند بھٹ نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ ویشویشور ہیگڈی کاگیری اس تعلق سے مناسب اقدامات کرتے ہوئے سرسی کو الگ ضلع بنانے میں تعاون فراہم کریں گے انہوں نے کہا کہ جاری اسمبلی سیشن میں ہی سرسی کو نئے ضلع کا درجہ دینے کا اعلان کیا جاتا ہے تو ہمیں بے حد خوشی ہوگی۔
سرسی کے پرانے بس اسٹائنڈ سرکل سے احتجاجی ریلی نکلی جو شیواجی چوک، سی پی بازار اور زو سرکل ہوتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر دفتر پہنچی ۔ اس موقع پر زو سرکل پر احتجاجیوں نے ٹائر جلا کر سرسی کو الگ ضلع قرار دینے کا پرزور مطالبہ دھرایا۔
اے سی دفتر پہنچ کر احتجاجیوں نے تحصیلدار شری دھر مُندلمنے کو میمورنڈم پیش کیا ، جس کے ساتھ ہی احتجاج اختتام کو پہنچا۔ احتجاجی ریلی میں سٹی میونسپل صدر گنپتی نائک، نائب صدر وینا شٹی، پرمانند ہیگڈے، ایم ایم بھٹ، رگھو کانڑے، منجو موگیر، سنتوش شٹی سمیت ہزاروں لوگ شامل تھے۔ بتایا گیا ہے کہ احتجاج کو کئی دیگر اداروں کی بھی حمایت حاصل تھی۔