ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / رنجیت بچن قتل: 30 گھنٹے بعد بھی پولیس خالی ہاتھ،  جائے ہلاکت سے ڈھائی کلومیٹر دور ملا موبائل، کال ریکارڈ کی تفتیش جاری 

رنجیت بچن قتل: 30 گھنٹے بعد بھی پولیس خالی ہاتھ،  جائے ہلاکت سے ڈھائی کلومیٹر دور ملا موبائل، کال ریکارڈ کی تفتیش جاری 

Mon, 03 Feb 2020 18:17:12    S.O. News Service

لکھنؤ/3 فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں اتوار کی صبح قریب ساڑھے چھ بجے وشوا ہندو مہا سبھا کے صدر رنجیت بچن کا نامعلوم افراد نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔اس قتل سے منسلک ایک سی سی ٹی وی سامنے آیا تھا، جس میں دو مشتبہ نوجوان نظر آئے تھے۔ پولیس نے اس کیس میں نامعلوم لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

پیر کو پولیس نے جائے وقوعہ سے تقریبا 2.5 کلومیٹر دوربھینسہ کنڈ سے رنجیت کا موبائل برآمد کیا ہے، کال ریکارڈ کھنگالی جارہی ہے۔ خیال رہے کہ آٹھ ٹیمیں اس قتل کی گتھی سلجھانے میں مصروف ہیں، لیکن 30 گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد بھی پولیس ابھی بھی خالی ہاتھ ہے۔

اتوار کی شام کرائم برانچ کی پولیس رنجیت کے گورکھپور میں واقع آشرم کی بھی پڑتال کی ہے،  وہیں، پولیس نے قاتلوں کی اطلاع دینے والے کو 50 ہزار کا انعام دینے کا اعلان بھی کیا  ہے۔ پولیس نے کہا کہ اطلاع دینے والے کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔ رنجیت کے ایک قریبی کو گورکھپور سے حراست میں لینے کی خبر تھی، لیکن پتہ چلا ہے کہ اُس کے ذریعے  کچھ خاص ہاتھ نہیں لگا ہے۔

خیال رہے کہ شیوسینا نے ہندو مہاسبھا کے صدر رنجیت بچن کے قتل کیخلاف تحریک کا انتباہ دیا ہے  شیوسینا کے صوبہ سربراہ انل سنگھ نے کہا کہ چھ ماہ کے اندر اندر ریاست کے بڑے مبینہ ’دو ہندووادی‘ رہنماؤں کے قتل نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے۔ پہلے کملیش تیواری اور اب رنجیت کا قتل کیا گیا، اس تعلق سے کہا جارہا ہے کہ ریاستی حکومت لاء  اینڈ آرڈر میں ناکام ہوچکی ہے لہٰذا وزیراعلیٰ   یوگی آدتیہ ناتھ  اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دے۔ شیوسینا نے دھمکی دی ہے کہ  48 گھنٹے کے اندر اگر ملزمان کی گرفتاری نہیں ہوئی،تو شیوسیناپورے صوبہ میں تحریک چلائے گی۔ 


Share: