نئی دہلی، 8/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی)دہلی سروسز بل پیر کو راجیہ سبھا میں طویل بحث کے بعد منظور کر لیا گیا۔ ووٹنگ کے دوران بل کی حمایت میں 131 ووٹ پڑے جب کہ مخالفت میں 102 ووٹ پڑے۔ قومی راجدھانی خطہ دہلی حکومت (ترمیمی) بل 2023 جمعرات کو لوک سبھا سے منظور ہو گیا تھا۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ووٹنگ سے قبل ایوان میں بل پر ہونے والی بحث کا تفصیلی جواب دیا اور دہلی میں حکمراں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) اور کانگریس پر جم کر نشانہ سادھا ۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ اس بل کا مقصد دہلی میں بدعنوانی سے پاک حکمرانی کو آسان بنانا ہے۔ بل کی ایک بھی شق سے، پہلے جو نظام تھا، اس میں ایک انچ بھی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے دہلی میں افسران کے تبادلے کے تنازع پر اروند کیجریوال حکومت کو بھی گھیرا۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ کئی بار مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی، تو دہلی میں بی جے پی حکومت تھی، کئی بار مرکز میں بی جے پی کی حکومت تھی اور دہلی میں کانگریس کی، اس وقت ٹرانسفر پوسٹنگ کو لے کر کبھی جھگڑا نہیں ہوا ۔ اس وقت اسی نظام سے فیصلے ہوتے تھے اور کسی وزیراعلی کو پریشانی نہیں ہوئی۔ کئی اراکین کے ذریعہ بتایا گیا کہ مرکز کو پاور ہاتھ میں لینی، ہمیں پاور لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ 130 کروڑ کے عام نے ہمیں پاور دی ہوئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مئی میں مرکزی حکومت نے دہلی قومی راجدھانی خطہ حکومت (ترمیمی) آرڈیننس 2023 کو نافذ کیا تھا، جس سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا کوئی اثر انداز نہیں رہ گیا تھا، جس میں قومی راجدھانی خطہ انتظامیہ میں 'سروسز' کا کنٹرول دہلی حکومت کو دیا گیا تھا۔ یہ بل دہلی حکومت میں سینئر افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے سلسلے میں جاری کردہ آرڈیننس کی جگہ لے گا۔