گلبرگہ،8 اگست؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )یس یم پنڈت رنگ مندر، گلبرگہ میں ضلعی جمعیت اہل حدیث گلبرگہ نے ملکی اور عالمی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک اہم پروگرام بعنوان ’’ دہشت گردی اسلام کے خلاف ہے‘‘کا انعقاد کیا ،بحمد اللہ۔اس پروگرام میں ملک کے مشاہیر علماء کرام تشریف لاکر اہم ترین حساس عنوانات پر خطاب فرمایا۔،اس اہم پروگرام میں مسلک وملت کی تفریق کے بغیر کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوکر علماء کرام کے بیانات سماعت فرمائے ۔واضح رہے یہ پروگرام جمعیت اہل حدیث گلبرگہ کی سر پرستی میں منعقد ہوا ۔الحمد للہ جمعیت اہل حدیث اس دین اسلام کی سچی تعبیر ہے جو دین رحمت اور دین فطرت ہے ،جس کا ہر حکم انسانی دنیا کے لئے باعث خیروبرکت اور سبب امن وراحت ہے اور جس کے قانون کی پیروی انسان کی جملہ پریشانیوں کا واحد حل ہے مگر بد قسمتی سے اسلام کو مطعون اور بدنام کرنے کے لئے ایک عرصہ سے پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ اسلام دہشت گردی ،تخریب کاری اور بد امنی کی تعلیم دیتا ہے ،اس سلسلے میں دہشت گردی کے میدان میں سرگرم داعش جیسی بعض تنظیموں کو اسلام سے جوڑنے کی ناروا کوشش کیجارہی ہے اور مزید یہ کہ جہاں بھی دہشت گردی کے واقعات پیش آتے ہیں اسے مسلمانوں کے سر ڈال دیا جاتا ہے اور میڈیا کے ذریعے اسے سچ ثابت کرنے کی مہم چلائی جاتی ہے اور خوب شور مچایاجاتا ہے کہ اسلام دہشت گردی ،درندگی ،سفاکی ،بد امنی ،تباہی وبربادی اور تخریب کاری کی تعلیم دیتا ہے ،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام امن وسلامتی والادین ہے دہشت گردی اور تخریب کاری کی ترغیب دلانے یا اس کی حوصلہ افزائی کرنے والا دین ہرگز نہیں ہے اور جو لوگ اسلام کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ اسلام امن وامان کی فضاخراب کرنے اور بلا جواز ہتھیار اٹھا کر معصوم اور بے گناہوں کے خون بہانے کی تعلیم دیتا ہے اسلام کے بارے میں ان کے ناقص مطالعہ ومعلومات پر مبنی اس رائے سے اسلام قطعی طور پہ بری ہے۔یہی وہ حقائق ہیں جن کی وضاحت کے لئے اسلام کی پاسبان جماعت اہل حدیث نے شہر گلبرگہ میں "دہشت گردی کی حقیقت " کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد کیا جس میں مذکورہ عنوان کے متعلق بے شمار ایسے حقائق کا انکشاف ہوا جس سے واقفیت حاصل کرنا تمام مسلک وملت سے منسلک افراد کے لئے بے حد ضروری ہے۔اس عنوان پر تبصرہ کرنے کیلئے ملک ہندوستان کے ماہر عالم دین،اقوام عالم کے نشیب وفراز پر باریک نظر رکھنے والے فضیل الشیخ ابو رضوان محمدی مدعو تھے موصوف نے دہشت گردی کو اسلام کے مخالف قرار دیا ،آپ نے بتایا کہ داعش جیسے گمراہ اور دہشت گرد فرقوں کو امت مسلمہ میں شامل کرکے اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ داعش اسلام مخالف تنظیم ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اسلام سے ہمیشہ دشمنی کا کردار ادا کرنے والے اسرائیل اور ایران انتہائی قریب ہونے کے باوجود ان کے حملوں سے محفوظ ہیں اور مسافت کی دوری کے باوجود فرانس پر حملے کی مذموم حرکت کرکے اس تنظیم نے بے گناہ افراد کے خون سے اپنے دامن کو داغدار کیا ہے شیخ محترم نے فرمایا کہ جمعیت اہل حدیث بشمول تمام دیگر جمعیات اس خونخوار داعش تنظیم سے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں ۔اسی کے ساتھ اس پروگرام کا ایک عنوان مادر وطن ہندوستان کی آزادی کی تاریخ پر مشتمل تھا، تاریخ وطن کی ورق گردانی کرنے والوں سے یہ بات مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے کہ اس ملک کی آزادی میں اوروں نے اگر پسینے بہائے تو ہمارے خون بہے ہیں ہمیں کالے پانی کی سزا ملی ہے تختہ دار پر ہماری لاشیں لٹکتی نظر آئی ہیں ہماری بستیاں برباد کی گئیں ہماری جائدایں غصب کی گئیں بالخصوص علمائے اہل حدیث کی ایک بڑی تعداد جو فرزانے کی شکل میں اٹھا اور وطن عزیز ہندوستان کو انگریزوں کے پنجہ استبداد سے آزاد کرانے میں نہ صرف یہ کہ اپنی جان ومال کی قربایاں دیں بلکہ تحریک شہیدین کو جلا بخشنے میں اولیت وسبقت حاصل کی اور ہر طرح کی قربانی پیش کرکے وطن عزیز کو آزاد کرایا مگر پھر بھی ان کی قربانیوں کو سلام کرنے کے بجائے ان کے نام بھی تاریخ کے صفحات سے مٹانے کی کوشش چل رہی ہے آج ضرورت ہے کہ ہم ملک کی آزاد فضا میں اپنے اسلاف کے کارناموں کی معرفت کے ساتھ مستقبل کے عزائم اور منصوبے طے کریں اور اپنے اسلاف کی قربانیوں کی تاریخ محفوظ رکھنے کو یقینی بنائیں۔اس حساس موضوع پر گرہ کشائی کے لئے نامور شخصیت محترم عبد الوہاب جامعی حفطہ اللہ امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث کرناٹکا وگوا کا انتخاب ہواتھا، موصوف نے مذکورہ بالا حقائق بیان کئے۔ اسی طرح ہمارے اس پروگرام کا تیسرا اہم عنوان تھا" دہشت گردی اسلام کی نظر میں " اسلام میں دہشت گردی کی تردید سے متعلق کیا احکامات ہیں ہمارے اپنوں اور برادران وطن کے ساتھ عالمی پیمانے پر اس حقیقت کی تشہیر کرنا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ اس سلسلے میں اسلام کی سچائی فروغ پاسکے اوردشمنان اسلام کی زبان اسلام سے متعلق اس حوالے سے بے لگام ہو کر ظلم پر مبنی نہ رہے فضیلت الشیخ شمیم فوزی حفظہ اللہ نے اس موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے مذکورہ باتوں کو عوام کے سامنے پیش کیا ۔مزید یہ کہ اسلام چونکہ امن کا پیامبر ہے اسلام کے ماننے والے امن کے سفیر ہیں کیونکہ ان کا مذہب امن کا مناد ہے اس لئے اہل دنیا کو ہم بتائیں کہ امن عالم فقط دامن اسلام میں ہے ،اسی ضرورت کے تحت اس پروگرام کا ایک اہم عنوان "آو امن وسلامتی کی طرف " تھا جس پر ملک ہندوستان کے مشہور مقرر فضیلت الشیخ ثناء اللہ مد نی حفظہ اللہ کا پر زور خطاب ہوا موصوف نے عوام سے ملک میں امن وامان برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا اور امن وامان کی فضا ہموار کرنے کے لئے اسلام کے سنہرے اصول سامعین کے سامنے رکھتے ہوئے ان پر کاربند رہنے کی اپیل کی۔ ایسے ہی پروگرام کا ایک عنوان "فتنوں سے نجات کا راستہ "تھا جس پر عمدہ انداز میں فضیلت الشیخ جواد جامعی ضفظہ اللہ نے روشنی ڈالتے ہوئے عوام کے سامنے مختلف فتنوں کا تذکرہ کرکے ان سے بچاو کا طریقہ اسلامی اصول کی روشنی میں بیان کیا اور سامعین کو ان اصولوں پرکاربند رہنے کی پر زور اپیل کی اور ملک وملت کو فتنوں سے بچانے کی تاکید فرمائی۔ پروگرام کے اختتام پر صدارتی خطاب کے ذریعہ تمام مسالک سے منسلک افرادسے داعش جیسی گھناونی تنظیم سے دور رہنے کا مطالبہ کیا گیا اس پروگرام میں شریک تمام افراد سے جمعیت اہل حدیث کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک ہندوستان کے آئین واصول کی پاسداری کرتے ہوئے ملک کو ہر طرح کے خطرات سے بچانے اور بھائی چارہ کو فروغ دینے میں تعاون کی درخواست کی گئی اور امن کے قیام کیلئے اس مشن میں ہاتھ بٹا کر دنیا وآخرت کی کا میابی حاصل کرنے میں اپنا ہم سفر بننے کا مطالبہ کیا ،اسی طرح یہ پروگرام اللہ تعالی سے دعاؤں کے ساتھ اختتام پذیرہوا۔