بنگلورو۔15؍نومبر(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے مرکزی حکومت کی طرف سے ہزار اور پانچ سو روپیوں کے نوٹوں پر پابندی اور غیر منظم طریقے سے 2000روپیوں کے نوٹ جاری کئے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے نام ایک مکتوب میں کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو ہزار اور دوہزار روپیوں کے نوٹوں پر پابندی لگانے کے ساتھ دو ہزار روپے کے نوٹ جاری کرنے کی بجائے پہلے پانچ سو روپے کے نوٹ جاری کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہاکہ فی الوقت بازار میں دو ہزار روپے اور سو روپے کے نوٹ کے درمیان کافی فاصلہ ہے ، جس کی وجہ سے لوگوں کو کافی پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ پانچ سو روپیوں کے نوٹ فوراً جاری کئے جائیں اور بعض زمروں میں پرانے نوٹوں کووصول کرنے کی جو رعایت دی گئی ہے اسے 30دسمبر تک وسعت دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ پانی اور بجلی کے بلوں کیلئے پرانے نوٹوں سے ادا ئیگی کی اجازت تو دی گئی ہے، لیکن یہ صرف انفرادی گھروں تک محدود رکھی گئی ہے اور ساتھ ہی اس رقم سے پرانے بقایا جات ادا نہیں کئے جاسکتے ۔وزیر اعلیٰ نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ رعایت چھوٹے تاجروں اور چھوٹی صنعتوں کیلئے بھی دی جائے۔ساتھ ہی اس رقم سے پیشگی بلوں کی ادائیگی کی گنجائش بھی رکھی جائے۔ پرانے نوٹوں کے استعمال کو صرف سرکاری اسپتالوں اور دوا خانوں تک محدود رکھنے کے فیصلے کو بھی غلط قرار دیتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی اسپتالوں اور دواخانوں میں بھی ان نوٹوں کو قابل استعمال قرار دیا جائے۔ بیشتر پرائیویٹ اسپتالوں میں ہزار اور پانچ سو روپیوں کے نوٹ مسترد کردئے جانے سے لوگوں کو علاج میں کافی دشواری ہورہی ہے اور اگر یہ مشورہ ناقابل عمل لگ رہا ہے تو تمام بینکوں میں پرانے نوٹوں کی وصولی اور نئے نوٹوں کی فراہمی کیلئے زیادہ تعداد میں مخصوص کاؤنٹرس کھولے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست بھر میں 158 بازار ہیں جہاں روزانہ 150تا200کروڑ روپیوں کی تجارت ہوتی ہے۔ بڑے کسانوں کو آر ٹی جی ایس کے تحت ادائیگی کی سہولت حاصل ہے ،لیکن چھوٹے اور معمولی کسانوں کواپنی تجارت نقد لین دین پر ہی کرنی پڑتی ہے۔موجودہ حالات میں ان کسانوں کو اپنی فصل کے عوض رقم نہیں مل پارہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ مرکزی حکومت کے اس اچانک فیصلے سے عام آدمی کو کافی دشواری ہورہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ملک کا بینکنگ نظام مستعد نہیں تھا۔ اسی لئے وزیر اعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ریزرو بینک اور دیگر بینکوں کی طرف سے عوام کو مشکلات سے چھٹکارا دلانے کیلئے قدم اٹھائے جائیں۔