لندن،31مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)برطانیہ کی ایک عدالت نے ایک انوکھے ’نوسرباز‘ کو خواتین کی تصاویر اتارنے اور انہیں انٹرنیٹ پر پوسٹ کرنے کی پاداش میں 16 ماہ قید کے ساتھ ساتھ آئندہ کسی خاتون کے پاس بیٹھنے اور موبائل فون اور کیمرہ استعمال کرنے سے منع کردیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگراس شخص کو آئندہ کسی خاتون کے پاس بیٹھا دیکھیں تو فوری طور پر پولیس کو مطلع کریں۔ 61 سالہ برطانوی سیمون لوسی نے انٹرنیٹ پر اپنے فرضی نام’Tubeperve‘ رکھا ہے۔ وہ گذشتہ 16 سال سے لندن میٹرو اور دیگر مقامات پر چپکے سے خواتین کی تصاویر بنانے کے بعد انہیں اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرتا اور انٹرنیٹ پر پوسٹ کرتا رہا ہے۔اخبار’مٹرو‘ نیبھی لوسی کو سنائی گئی سزا کے ایک جملے کو اپنی رپورٹ کا عنوان بناتے ہوئے لکھا ہے کہ’اگر اس شخص کوکسی خاتون کے قریب بیٹھا دیکھیں تو فورا پولیس کو خبر دیں‘۔
اخباری رپورٹ کے مطابق لوسی نے خواتین کی تصاویر اتارنے کا سلسلہ 13 سال قبل سنہ 2003ء میں شروع کیا اور وہ 2016ء کے آخر میں بے نقاب ہوا۔ گرفتاری کے بعد اسے گذشتہ جنوری میں سولہ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔بعد ازاں عدالت نے خواتین کو ضرر پہنچانے سے بچاؤ کے لیے ملز پر کسی خاتون کے قریب بیٹھنے، کیمرہ استعمال کرنے اور موبائل فون ساتھ رکھنے پر پابندی عاید کی ہے۔لوسی کو لندن کے بلاسکھیٹ روڈ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ عدالت میں پیشی کے دوران اس پر 106 خواتین کی دھوکہ دہی سے تصاویر لینے سمیت دیگر الزامات عاید کیے گئے۔
عدالت نے تیرہ سال کے بعد ملزم کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے آئندہ اپنے پاس ایسا کوئی بھی آلہ جس کی مدد سے تصویر اتاری جا سکے اپنے پاس رکھنے سے منع کردیا ہے۔ بغیر کسی حقیقی سفر کے وہ ریلوے اسٹیشن، میٹرو کے اڈوں اور دیگر پبلک مقامات جہاں خواتین کا رش ہوسکتا ہے داخل ہونے کا مجاز نہیں۔ اگر وہ حقیقی سفر کے لیے ان مقامات میں آتا ہے تو اسے کسی خاتون کے قریب بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر وہ ایسا کرے تو اس کے بارے میں کوئی بھی شخص پولیس کومطلع کرسکتا ہے۔