نئی دہلی،25/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) چندریان -3کا لینڈر ماڈیول 23 اگست کی شام چاند کی سطح پر اتر گیا اور اس کے ساتھ ہی ہندوستان چاند کے جنوبی قطب پر پہنچنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔ چندریان کی اس کامیابی نے پوری دنیا میں ہندوستان کا نام روشن کر دیا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ملک کا وقار بلند کرنے والے اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) کا کوئی بھی سائنسداں کروڑپتی نہیں ہے۔ جی ہاں، یہ انکشاف کیا ہے اِسرو کے سابق چیف جی مدھون نائر نے۔
مادھون چندریان۳؍ کامیابی سے بے حد خوش ہیں اور انہوں نے اِسرو کے سائنسدانوں کو اس کے لئےمبارکباد بھی پیش کی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ خوشگوار حیرت میں مبتلا کردینے والا انکشاف بھی کیا کہ اسرو کے پاس وسائل کی کمی کے باوجود ایجنسی نے کبھی ہار نہیں مانی۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس خلائی ایجنسی کے سائنسدانوں نے ترقی یافتہ ممالک کے سائنسدانوں کے پانچویں حصے کے برابر تنخواہ پا کر یہ تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ ساتھ ہی اِسرو کے سابق چیف یہ بھی کہتے ہیں کہ اِسرو میں سائنسدانوں کی کم تنخواہ ایک سبب ہے کہ وہ خلائی تحقیق کیلئے کم لاگت والا سامان تلاش کرسکیں اور اسے کم سے کم لاگت میں ہی تیار کرنے کی کوشش کرسکیں۔
جی مادھون نائر کا کہنا ہے کہ اِسرو کے سائنسدانوں میں کوئی کروڑپتی نہیں ہےبلکہ وہ ہمیشہ بہت سادہ اور صبر والی زندگی گزارتے ہیں۔ وہ واقعی میںپیسے کے بارے میں فکرمند نہیں ہیں۔ بلکہ اپنے مشن کے تئیں جذباتی اور اسی کے لئے وقف ہیں۔ اسی طرح ہم نے زیادہ اونچائیاں حاصل کی ہیں۔ نائر مزید کہتے ہیں کہ اِسرو کے سائنسداں محتاط منصوبہ اور طویل مدتی نظریہ کے ذریعہ اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم نے ماضی میں جو سیکھا ہے اسے اگلے مشن کے لئے استعمال کیا۔ واقعی میں ہم نے قطبی سیٹیلائٹ لانچنگ طیارہ کیلئے تقریباً ۳۰؍سال قبل جو انجن تیار کیا تھا وہی انجن جی ایس ایل وی کے لئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ہم کم سے کم خرچ میں بہترین نتائج دے سکتے ہیں۔
مادھون نائر بتاتے ہیں کہ ہندوستان اپنی خلائی مہمات کے لئے گھریلو تکنیک کا استعمال کرتا ہے اور اس سے انہیں لاگت کو بہت کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی خلائی مہم کی لاگت دیگر ممالک کی خلائی مہموں کے مقابلے میں ۵۰؍ سے ۶۰؍فیصد کم ہے۔ نائر کا کہناتھا کہ چندریان 3 کی کامیابی ہندوستان کے سیاروں کی تلاش شروع کرنے کی سمت میں پہلا قدم ہے اور یہ ایک بہترین شروعات ہے۔