جے پور، 29؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )کسان مہا پنچایت کے قومی صدر رام پال جاٹ نے الزام لگایا ہے کہ ریاستی حکومت کی بے حسی اور لاپرواہی کی وجہ سے 13کروڑ 82لاکھ 19ہزار 226روپے کا کسانوں کا سیدھانقصان ہوا ہے جس کی تلافی حکومت کو کرنی چاہئے۔جاٹ نے آج کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں کو 19دنوں میں ہی 13کروڑ، 82لاکھ، 19ہزار 226روپے کا خسارہ پہنچا اور اب بھی یہ خسارہ روزانہ چوبیس ہزار روپے کا روزانہ ہو رہا ہے۔اس خسارے کیلئے حکومت ذمہ دار ہے اور اس خسارے کی تلافی حکومت کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔مونگ کی کم از کم امدادی قیمت مرکز حکومت کی طرف سے 4800روپے فی کونٹل قرار دیا گیا جبکہ راجستھان حکومت نے پیداوار خرچ کی بنیاد پر فی کوٹل 5000روپے کم از کم امدادی قیمت مقرر کرنے کی سفارش کی تھی، لیکن سفارش سے بھی 2000روپے فی کونٹل کے حساب سے کم قیمت مرکزی حکومت نے اعلان کیاہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے جنوبی افریقہ کے موزمبیق جیسے ممالک سے سمجھوتہ کرکے دال کی پیداوار کی کم از کم امدادی قیمت پر خریداری کی ضمانت دی ہے۔وہیں دوسری طرف ملک کے کسانوں کے تیار مونگ کو ان اخراجات پر بھی خریداری نہیں کی جا رہی ہے۔حکومت بچولیوں کے غلط فائدہ پر روک نہیں لگانا چاہتی بلکہ پیداواری اور صارفین کو لوٹنے کے لئے بچولیوں کی مدد کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال کسانوں سے مونگ کی 50روپے فی کلو خریداری کی گئی اور اسی مونگ کو دال میں تبدیل کرکے صارفین سے 120روپے تک کی قیمت وصول کی گئی۔اس طرح پیداواری اور صارفین دونوں کو بچولیوں اور مل مالکان نے لوٹ کر اپنی جیبیں بھری۔مونگ اور تیار مونگ کی دال میں 70روپے فی کلو کا فرق ہے۔