ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حکومت نے نوٹ بند ی پر بحث کا جواب وزیر اعظم کی طرف دینے کا مطالبہ مسترد کیا

حکومت نے نوٹ بند ی پر بحث کا جواب وزیر اعظم کی طرف دینے کا مطالبہ مسترد کیا

Fri, 18 Nov 2016 13:45:09    S.O. News Service

نئی دہلی، 17؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )نوٹ بند ی کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث پر وزیر اعظم نریندر مودی سے جواب دینے کے اپوزیشن کے مطالبہ کو آج حکومت نے مسترد کر دیا اور الزام لگایا کہ اپوزیشن پارٹیاں اس موضوع پر بحث میں رکاوٹ ڈالنے کے بہانے تلاش کر رہی ہیں کیونکہ یہ ان کے خلاف جا رہا ہے۔نوٹ بند ی کے معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامے اور وزیر اعظم کی موجودکی کے مطالبہ کی وجہ سے دونوں ایوانوں میں کارروائی نہیں چل پانے کے بعد اطلاعات ونشریات کے مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ایوان کے اصول وضوابط کے مطابق حکومت کی جانب سے بحث کا جواب متعلقہ وزیر یا کوئی دوسرا شخص دے گا ۔راجیہ سبھا میں نوٹ بند ی کے معاملے پر کل شروع ہوئی بحث اپوزیشن پارٹیوں کے ہنگامے کی نذرہوگئی ۔اپوزیشن پارٹیاں وزیر اعظم کے ایوان میں موجود رہنے اور جواب دینے کا مطالبہ کر رہی تھیں ۔وہیں لوک سبھا میں ووٹنگ کی شق والے اصول کے تحت بحث کرانے کے مطالبہ پر اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے ایوان زیریں کی کارروائی نہیں چل سکی۔حکومت حالانکہ اصول 193کے تحت بحث کرانے کو تیار تھی۔وینکیا نائیڈو نے کہاکہ راجیہ سبھا میں بحث آدھی گزرنے کے بعد انہیں لگا کہ اس کا منفی اثر پڑ رہا ہے اور الٹا پڑنے جا رہا ہے، اب مجھے لگتا ہے کہ کیا وہ اس سے باہر آنے کے لیے راہیں تلاش کر رہے ہیں اور اس کے پیش نظر بحث میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ہنگامے کو بحث میں خلل ڈالنے کابہانہ قرار دیتے ہوئے وینکیا نائیڈو نے الزام لگایا کہ اس کے پیچھے کوئی جواز نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کاروائی قوانین اور ایوان کے طریقہ کار کے تحت چلتی ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ بحث قوانین، طریقہ کار کے تحت ہو رہی ہیں اور اسپیکر ان چیزوں کو دھیان میں رکھتا ہے۔وینکیا نے کہاکہ مجھے لگتا ہے کہ جن لوگوں نے بحث شروع کی ہے ، انہیں اب سمجھ میں آ گیا ہے کہ اس کا منفی اثر پڑ رہا ہے، اور اس لیے وہ بحث نہیں ہونے دینے کے لیے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وہ اب دوسر میں اور مختلف آوازوں میں باتیں کر رہے ہیں، وہ واضح طور پر نہ تو اس کے حق میں آ رہے ہیں اور نہ ہی اس کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ الجھن میں ہیں اور ان کی الجھن جاری رہے گی۔


Share: