ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حزب اختلاف نئے اتحاد ’انڈیا‘ کے ساتھ بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار، بینگلورو اجلاس سے اعلان

حزب اختلاف نئے اتحاد ’انڈیا‘ کے ساتھ بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار، بینگلورو اجلاس سے اعلان

Tue, 18 Jul 2023 21:22:39    S.O. News Service

بینگلورو،18/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) بینگلورو میں اپوزیشن جماعتوں کی جاری میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب ان کے گروپ کا نام انڈیا ہوگا۔ کانگریس کی قیادت میں یہ اپوزیشن گروپ پہلے یو پی اے کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اب یہ تمام اپوزیشن جماعتیں ہندوستانی اتحاد کا حصہ ہوں گی۔ اس انڈیا کی مکمل شکل 'انڈین نیشنل ڈیموکریٹک انکلوسیو الائنز' ہے۔

خیال رہے کہ بنگلورو میں اپوزیشن کا اجلاس جاری ہے۔ گزشتہ روز یعنی 17 جولائی کو اجلاس کا پہلا دن غیر رسمی تھا جس میں بحث کے بعد عشائیہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس کے بعد آج باضابطہ میٹنگ ہوئی، جس میں گرینڈ الائنس کے نام پر بات ہوئی۔ کل رات کی میٹنگ میں تمام پارٹیوں سے نام تجویز کرنے کو کہا گیا اور آج کی میٹنگ کے دوران ان پر تبادلہ خیال کیا گیا اور متفقہ طور پر 'انڈیا' نام پر اتفاق کیا گیا۔

بینگلورو میں جمع ہونے والی تمام اپوزیشن جماعتوں کی مکمل فہرست: کانگریس، ٹی ایم سی، جے ڈی یو، آر جے ڈی، این سی پی، سی پی ایم، سی پی آئی، سماج وادی پارٹی، ڈی ایم کے، جے ایم ایم، عام آدمی پارٹی، شیو سینا (ادھو دھڑا)، نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، آر ایل ڈی، آئی یو ایم ایل، کیرالہ کانگریس (ایم)، ایم ڈی ایم کے، وی سی کے، آر ایس پی، کیرالہ کانگریس (جوزف)، کے ایم ڈی کے، اپنا دال کیمرواڑی، ایم ایم کے، سی پی آئی ایم ایل، اے آئی ایف بی۔

بینگلورو میں جاری اس اجلاس کے دوران کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ 26 پارٹیاں متحد ہوکر کام کرنے کے لیے موجود ہیں۔ اس وقت ہم سب کی 11 ریاستوں میں حکومتیں ہیں۔ اکیلے بی جے پی کو 303 سیٹیں نہیں مل سکیں۔ وہ اپنے اتحادیوں کے ووٹوں کا استعمال کر کے اقتدار میں آئی اور پھر انہیں بے دخل کر دیا۔

کھرگے نے کہا ’’بی جے پی صدر اور ان کے لیڈر اپنے پرانے حلیفوں سے سمجھوتہ کرنے کے لیے ایک ریاست سے دوسری ریاست بھاگ رہے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ جو اتحاد انہیں یہاں نظر آ رہا ہے اس کا نتیجہ اگلے سال ان کی شکست کی صورت میں نکلے گا۔ اپوزیشن کے خلاف ہر ادارے کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس میٹنگ میں ہمارا مقصد اپنے لیے اقتدار حاصل کرنا نہیں ہے۔ یہ جمہوریت، سیکولرازم اور سماجی انصاف کے تحفظ کے لیے ہے۔ آئیے ہم ہندوستان کو ترقی، بہبود اور حقیقی جمہوریت کی راہ پر واپس لے جانے کا عزم کریں۔


Share: