ؓبرلن10فروری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جرمن دارالحکومت برلن کی ایک عدالت کے مطابق ایک مسلمان خاتون ٹیچر کو حجاب کے باعث مسترد کرتے ہوئے اْس کے حقوق کو پامال کیا گیا۔ برلن صوبے کو اس خاتون ٹیچر کو زرِ تلافی ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔یہ خاتون کئی برسوں سے برلن میں اسلامیات پڑھا رہی تھی اور اْس نے برلن کے ایک پرائمری اسکول میں ملازمت کے لیے درخواست دی تھی۔ اس مسلمان خاتون کو نظریاتی طور پر غیر جانبدار رہنے کے ایک صوبائی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ کام پر ہونے کے دوران اپنا ہیڈ اسکارف نہیں پہن سکتی اور یہ کہ ایسا کرنا اس قانون کی خلاف ورزی ہو گا۔اب عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاہے کہ برلن صوبے کی انتظامیہ پبلک اسکولوں میں ٹیچرکے طورپردرخواست دینے والے امیدواروں کو ہیڈ اسکارف پہننے کی بناء پرمسترد نہیں کر سکتی۔اس ٹیچر نے جنوری 2015ء میں اپنے خلاف اور برلن کی صوبائی انتظامیہ کے حق میں آنے والے ایک فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی تھی۔ تازہ عدالتی فیصلے کے بعد زرِ تلافی کے طور پر اس خاتون ٹیچر کو اْس کی دو تنخواہوں کے برابر رقم دی جائے گی، جو آٹھ ہزار یورو سے زیادہ بنتی ہے۔ اس کے علاوہ مقدمے کے اخراجات کا کچھ حصہ بھی برلن کی انتظامیہ کواداکرنا ہو گا۔اس ٹیچر کی وکیل مریم ہاشمی نے کہا:”ہم نے سکھ کا سانس لیا ہے اور اس فیصلے سے بہت مطمئن ہیں۔“عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متعلقہ اسکول اس ٹیچر کو مذہبی آزادی کا حوالہ دے کر نظریاتی طورپرغیرجانبدار رہنے کے صوبائی قانون سے مستثنیٰ قرار دینے کا اختیار رکھتا تھا۔ عدالت کے مطابق صرف حجاب کی بناء پر اس خاتون کی درخواست کورَدکرتے ہوئے اسکول نے امتیازی سلوک کے خلاف بنائے گئے ضوابط کو پامال کیا۔ عدالت کے مطابق برلن انتظامیہ کہ یہ ثابت کرناھاکہ حجاب کا پہننا اسکول میں امن کے لیے ایک خطرہ تھا، جو کہ وہ ثابت نہیں کر سکی۔برلن انتظامیہ کی جانب سے اس ٹیچرکو حجاب کی بجائے سر پر ایک وِگ پہننے کی تجویز دی گئی تھی، جسے اس ٹیچر نے مسترد کر دیا۔واضح رہے کہ جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت پہلے ہی دو بار یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ سرکاری شعبوں میں مسلمان خواتین کے ہیڈاسکارف لینے پرپابندی غیرآئینی ہو گی۔