ممبئی، 20 اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کی قانونی امداد کمیٹی کے سکریٹری گلزار احمد اعظمی مختصر علالت کے بعد اتوار صبح ممبئی کے مسینا اسپتال میں انتقال کرگئے۔ انا لللہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر 89 سال تھی۔
ان کے پسماندگان میں چھ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں،گلزار اعظمی 1954ءسے جمعیۃ العلماء ہند سے وابستہ رہے اور 69سالوں تک خدمات انجام دی، ملک اور خصوصاً فرقہ وارانہ فسادات اور قدرتی آفات کے دوران راحتی کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا، بالخصوص ممبئی فسادات کے بعد انکوائری کمیٹی سری کرشناکمیشن کی کارروائی اور متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرانے میں ان کا اہم رول رہا،پھر جمیعۃ العلماء قانونی امداد کمیٹی کے ذریعے فسادات کے بعد گرفتار بے قصوروں کی رہائی اور بم دھماکوں کے ملازمین کی باعزت رہائی کے لیے تین دہائیوں سے کوشاں رہے جس کے دوران کئی بے قصور نوجوانوں کو باعزت بری کرانے میں بھی ہر طرح کی قانونی کوششیں کیں۔
جمعیت علماء ہند کی تقسیم کے وقت انہوں نے ارشد مدنی گروپ میں شمولیت اختیار کر لی اور قانونی امداد کمیٹی کے سکریٹری مقرر کیے گئے ۔کئی بے قصور ان کی کوششوں کے نتیجے میں دو دہائی بعد باعزت بری ہوگئے، جن کی کفالت بھی جمعیت علماء تنظیم کے ذریعے کی گئی، آپ اس وقت کھل کر سامنے آئے جب کانگریسی دور اقتدار میں مسلم نوجوانوں کو دہشتگردی کے الزامات میں گرفتار کیا جانے لگا تھا اور ان کی رہائی کے راستے بند کردئیے گئے تھے۔ پھر ملک کے کئی مسلم آبادی والے علاقوں کو دہشتگردوں کا اڈا قرار دیا جانے لگا۔ ایسے میں جب لوگ بے حال اور پریشان تھے اور نوجوانوں کی گرفتاریوں کے بعد ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا، گلزار اعظمی صاحب مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کھڑے نظر آئے، مسلمانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے اور مظلوموں کا ساتھ دینے کی انہوں نے بھرپور کوشش کی، اور کئی سارے مسلمانوں کو انہوں نے قید و بند سے آزادی دلانے میں کامیاب بھی ہوئے۔
مرحوم گلزار اعظمی نہایت نیک دل، اور ملت کے لیے انتہائی ہمدردانہ طبیعت رکھنے والی ملّی شخصیت تھے۔ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی بھنڈی بازار میں ان کی رہائش گاہ پر لوگ بڑی تعداد میں جمع ہونے لگے، جن میں سابق ریاستی وزیر اور ایم پی سی سی کے کارگزار صدر عارف نسیم خان، سماج وادی پارٹی صدر اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی ،مقامی ایم ایل اے امین پٹیل، کارپوریٹر جاوید جونیجو اور جمعیت علماء کے کارکن اور دیگر تنظیموں کے لیڈران اور رضاکار وغیرہ موجود تھے، جنہوں نے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کی۔ اتوار شب بعد نماز عشاء ممبئی کے بڑے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ اللہ غریق رحمت کرے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ امین۔