ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی نظر بندی قومی مفاد میں کیا گیا فیصلہ ہے: پاکستانی فوج

جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی نظر بندی قومی مفاد میں کیا گیا فیصلہ ہے: پاکستانی فوج

Tue, 31 Jan 2017 21:08:35    S.O. News Service

کراچی31جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)پاکستانی فوج کی جانب سے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی نظربندی کو ریاست کی جانب سے قومی مفاد میں کیا گیا فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔ادھر جماعت الدعوۃنے حافظ سعید کی نظر بندی کے خلاف منگل کو اسلام آباد اور لاہور سمیت ملک کے کئی شہروں میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔فوج کی جانب سے حافظ سعید کے بارے میں بیان راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی پہلی میڈیا بریفنگ میں سامنے آیا۔اس سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’حافظ محمد سعید کی نظربندی ایک پالیسی فیصلہ ہے جو قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔‘ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریاستی اداروں نے یہ فیصلہ قومی مفاد میں کیا ہے جس میں بہت سے اداروں کو اپنا اپنا کام کرنا ہوگا اور آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔اس سوال پر کہ آیا حافظ سعید کی نظربندی غیر ملکی دباؤ کا نتیجہ ہے، اس پر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ’آزاد اور خودمختار ریاستیں اپنے قومی مفاد میں یہ فیصلے لیتی ہیں اور جو فیصلہ بھی ریاست لے گی وہ ملکی مفاد میں ہو گا۔‘خیال رہے کہ پیر کو وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے جماعت الدعوۃ کے خلاف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اقدامات کے اعلان کے بعد رات گئے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کو لاہور میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ان کی یہ نظربندی چھ ماہ کے لیے ہے۔ حافظ سعید کے ساتھ ساتھ جماعت الدعوۃ کے چار دیگر رہنماؤں عبداللہ عبید، ظفر اقبال، عبدالرحمن عابد اور قاضی کاشف نیاز کو بھی اے ٹی اے 1997 کے سیکشن 11 ای ای ای کے تحت حفاظتی تحویل میں لینے کا حکم بھی جاری ہوا ہے۔حافظ سعید کی نظربندی کے خلاف ان کی جماعت کی جانب سے لاہور میں پنجاب اسمبلی جبکہ اسلام آباد اور کراچی میں پریس کلب کے باہر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔صوبہ پنجاب کی وزاتِ داخلہ کے حکام کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق فلاح انسانیت اور جماعت الدعوۃ کو واچ لسٹ اور سیکنڈ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر 2008 میں بھارتی شہر ممبئی میں ہونے والے حملوں کے بعد جماعت الدعوۃ پر پابندیاں لگائی تھیں اور اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔اس کے بعد سنہ 2014 میں امریکہ نے بھی جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اس پر مالیاتی پابندیاں عائد کی تھیں۔امریکی حکام کی جانب سے جماعت الدعوۃکے سربراہ حافظ سعید کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کی پیش کش بھی کی گئی تھی۔پاکستان کے دفترِ خارجہ نے جنوری 2015 میں اعلان کیا تھا کہ جماعت الدعوۃ سمیت ان تمام دہشت گرد تنظیموں کے اثاثوں کو منجمد کیا جا چکا ہے جن پر اقوامِ متحدہ نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔
 


Share: