فتح گڑھ صاحب، 28ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)دیش بھگت یونیورسٹی کے املوہ احاطے میں پڑھ رہے تین کشمیری طالب علموں نے الزام لگایا ہے کہ کچھ نامعلوم افراد نے 25ستمبر کی رات کو انہیں پریشان کیا،تاہم پولیس اور یونیورسٹی کے حکام نے اس الزام سے انکار کیا ہے۔یہ تین طالب علم کشمیر کے ان سو طالب علموں میں شامل ہیں جنہوں نے جموں کشمیر کے لئے وزیر اعظم کے اسکالر شپ پروگرام کے ذریعے مختلف کورسز میں یونیورسٹی میں اندراج کرایا ہے۔ان تین طالب علموں میں سے ایک دانش احمد نے الزام لگایا کہ ان کے ہاسٹل کے کمروں کے باہر کچھ لوگوں نے جمع ہو کر ان سے برا بھلا کہا۔انہوں نے کہا کہ اتوار کی رات جب ہم سو رہے تھے تو انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا اور ہم سے باہر آنے کو کہا جس کے بعد ہم نے پولیس اور کشمیر میں ہمارے ماں باپ کو معلومات دی۔رابطہ کئے جانے پر املوہ کے تھانہ انچارج دلبیر سنگھ نے کہا کہ اتوار دن میں تقریبا ایک بجے اطلاع ملنے پر ایک پولیس ٹیم وہاں پہنچی اور اس معاملے کی پوری تحقیقات کی گئی ۔تھانہ انچارج نے کہا کہ ہم نے ہاسٹل میں رہ رہے دوسرے طالب علموں سے واقعہ کے بارے میں پوچھ گچھ کی لیکن انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ادھر وائس چانسلر ورمدر سنگھ نے ایسا واقعہ ہونے سے انکار کیا ہے۔