جے پور،16اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ملک کی آزادی کے70سال پورے ہونے کے موقع پر ملک بھر کے کئی شہروں میں وزیر اعظم نریندرمودی کی ہدایت پرترنگایاترا نکالی جا رہی ہے۔پارلیمنٹ سیشن کے دوران بی جے پی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں پی ایم مودی نے اپنی کابینہ کے ساتھیوں اور پارٹی کے سینئر لیڈروں کو اس ترنگا یاترا میں شامل ہونے کی ہدایت دی تھی۔اس دوران انہوں نے واضح طورپر کہا تھا کہ ریلی کے دوران ٹریفک قوانین پر مکمل طور پر عمل ہوگا۔ریلی میں شامل ہر آدمی کے سر پر ہیلمٹ ہوگا،سب سے آگے چلنے والی موٹر سائیکل سوار کے ہیلمٹ پر ترنگا بنا ہوگا،ٹریفک قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔لیکن راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں مرکزی وزیر وردھن سنگھ راٹھور اور مرکزی وزیر پیوش گوئل نے ترنگا یاترا کی قیادت کی۔اس دوران راٹھورموٹرسائیکل کو چلا رہے تھے اور انہوں نے ہیلمیٹ نہیں پہنا۔ انہوں نے ترنگے رنگ والی پگڑی پہن رکھی تھی۔ان کی موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھے پیوش گوئل بھی بغیر ہیلمیٹ کے ہی بیٹھے تھے۔انہوں نے بھی ترنگے کے رنگ کی پگڑی پہن رکھی تھی۔یاترا جے پور کے کھاتی پورا تراہے سے شروع ہوکر دین دیال اپادھیائے کے گاؤں دھانکیا تک گئی۔ریلی کے دوران وزراء کے آس پاس چل رہے لوگوں میں سے کسی نے بھی ہیلمیٹ نہیں پہنا تھا۔اتنا ہی نہیں زیادہ تر موٹر سائیکل سواروں نے کوئی پگڑی بھی نہیں پہنی تھی۔سڑک پر سفر کے دوران روڈ کے دوسری طرف (مخالف سمت سے آنے والوں کی گاڑیوں کے سامنے)بھی تمام موٹر سائیکل سوار تیز رفتار موٹر سائیکل چلا رہے تھے،دو کی جگہ باقی پر تین تین لوگ بھی بیٹھے تھے۔وزیر کے ساتھ سفر کر رہے سینکڑوں نوجوان ہاتھوں میں ترنگا لئے ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑا رہے تھے۔اتنا ہی موقع موقع پر جس کا دماغ کیا انہوں نے کرتب تک دکھائے۔سینکڑوں کی تعداد میں موٹر سائیکل سوار سڑک کے دونوں جانب تیزی سے بے ترتیبی کے ساتھ موٹر سائیکل دوڑا رہے تھے،ٹریفک قوانین پر کسی نے بھی کوئی عمل نہیں کیا اور ایک بار پھر یہ بات ثابت کیا کہ حکومت میں بیٹھے لوگوں کے لئے قوانین قانون نظام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اگر پی ایم مودی خود انہیں اس بات کی تاکید کر چکے ہوں۔