بھٹکل 15 جولائی (ایس او نیوز) بھٹکل خلیفہ محلہ میں 1973 سے قائم کوسموس اسپورٹس سینٹر کی جانب سے جمعہ بعد نمازعشاء علاقہ کےہونہار طلبہ و طالبات کی ہمت آفزائی اور اُنہیں تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھانے کے مقصد سے تعلیمی ایوارڈ کا شاندارپروگرام منعقد ہوا جس میں تین سال کی مدت میں تعلیم سمیت مختلف میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والوں کی تہنیت کرتے ہوئے انہیں انعامات سے نوازا گیا۔ پروگرام میں بتایا گیا کہ تین سال کی مدت میں 32 لوگ حافظ قران کی سعادت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور تمام 32 لوگوں میں جن میں خواتین بھی شامل ہیں کو انعامات سے نوازا گیا۔ اسی طرح عصری علوم میں شاندار نمبرات سے کامیاب ہونے والے میٹرک، سکینڈ پی یوسی اور گریجویٹ طلبہ و طالبات میں بھی انعامات تقسیم کئے گئے،جبکہ علاقہ کے پانچ ذمہ داران کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اُن کی بھی تہنیت کی گئی۔
مہمان خصوصی کے طور پرخطاب کرتے ہوئے بھٹکل گروسدھیندرا کالج کے پرنسپال ڈاکٹر ویریندرشانبھاگ نے سینٹر کی رپورٹ پر نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہوئےبتایا کہ یہاں کے 32 لوگوں نے قران حفظ کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ علاقہ کے نوجوانوں کی یادداشت بے حد مضبوط ہے، کافی طلبہ نے اکیڈمک سالوں میں نمایاں کامیابی درج کی ہے جبکہ اسپورٹس میں بھی یہاں کے لوگوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، ان سب کے لئے محنت، لگن اور جستجو نہایت ضروری ہوتی ہے جو یہاں کے نوجوانوں میں موجود ہے، انہوں نےبھٹکل کے نوجوانوٓں کو مشورہ دیا کہ آپ کے اندراتنا زیادہ ٹیلنٹ ہے تو آپ کو نئے نئے ائیڈیازسوچنے کی ضرورت ہے، نئے بزنس کی طرف پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے، آپ دبئی اوردیگر ممالک میں جانے کے بجائے آپ کچھ ایسا کریں کہ باہر کے لوگ بھٹکل آنے پر مجبورہوجائیں اور آپ اُنہیں ملازمت دیں۔ انہوں نے اولا، اُوبر، سویگی اور زوماٹو کی مثال پیش کرتے ہوئے بھٹکل والوں پر زوردیا کہ آپ بھی کچھ نیا سوچیں، نئے میدان بنائیں، اگر نوجوان کچھ کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو اُن کےلئے کوئی بھی ٹاسک مشکل نہیں ہوتا۔
جامعہ اسلامیہ کے پرنسپل مولانا مقبول کوبٹے ندوی نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان گریجویٹ مکمل کرنے پر ہی اکتفا نہ کریں بلکہ تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھنے کی کوشش کریں، انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ صرف ایک میدان میں سب لوگ کود نہ پڑیں، بلکہ الگ الگ میدانوں میں جائیں۔ مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ ماہرین کی مدد سے بچوں کی نفسیات سمجھنے کی ضرورت ہے اور بچوں کے مزاج اور اُن کے ٹیلینٹ کو سامنے رکھ کر اُنہیں اسی میدان میں آگے بھیجنے کی ضرورت ہے۔ مولانا نے ملک کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے نوجوانوں کو مختلف میدانوں میں آگے بڑھ کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کی ضرورت پر دھیان دلایا۔ مولانا نے اس بات پر زوردیا کہ علاقے کا سروے کیاجائے اور ڈراپ آوٹ طلبہ کی نشاندہی کرکے اُنہیں واپس تعلیمی میدان میں آگے بڑھانے کی طرف توجہ دیں، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی نوجوان تعلیم کو آدھوری چھوڑتا ہے تو اُس کی وجہ جاننے کی کوشش کی جائے، اُس کے مسائل حل کرتے ہوئے اُسے آگے بڑھایا جائے۔
مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین قاضی مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کے ڈراپ آوٹ کا ڈاٹا تیار کرنا بے حد ضروری ہے اور اُن کے مسائل حل کرتے ہوئے تعلیم کو مکمل کرانے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ اگر آپ کو امتحان میں اچھے مارکس لینے ہیں تو عشاء کی نماز کے بعد گھر سے باہر نہ نکلیں، موبائل پر اپنا وقت برباد نہ کریں اور بالخصوص عشاء کی نماز کے بعد پوری دلجوئی کے ساتھ پڑھائیں کریں۔
انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے جنرل سکریٹری جناب صدیق اسماعیل نے بچوں پر زور دیا کہ وہ اپنےدن بھر کے اوقات کا ایک شیڈول بنائے اور اُسی شیڈول کے مطابق کام کرے، موصوف نے سرپرستوں پر زور دیاکہ وہ بچوں کی اسکول اورکالج میں حاضری پر توجہ دیں، آگے کہا کہ آج کل بچوں بالخصوص ڈگری کے طلبہ کی حاضری صرف دس، بیس یا زیادہ سے زیادہ پچاس فیصد ہورہی ہے، حالانکہ امتحان میں بیٹھنے کے لئے کم سے کم 75 فیصد حاضری ضروری ہوتی ہے۔
تلاوت کلام پاک مع انگریزی ترجمہ سے پروگرام کا آغاز ہوا، مولوی تیمور گوائی نے مہمانوں کا استقبال نیز تعارف پیش کیا۔ کوسموس اسپورٹس سینٹر کے جنرل سکریٹری مولوی انجم گنگاولی ندوی نے سینٹر کی رپورٹ پیش کی۔ عبدالسلام چامنڈی نے کلمہ تشکر پیش کیا، کوسموس کے صدر مولوی ارشاد نائطے ندوی نے صدارتی خطاب کیا۔ مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی کی دُعا پرجلسہ اختتام کو پہنچا۔ مولوی مُدرک ندوی اور حافظ حسن ڈی ایف نے پروگرام کی نظامت کی۔ اس موقع پر کوسموس کے ذمہ داران جناب محتشم ابوفیصل، جناب صدیق ارشاد محٰی الدین، جناب کے ایم اشفاق، جناب طارق دامداابو، جناب اسماعیل جوباپو و دیگر کئی سرپرستان بھی اسٹیج پر موجود تھے۔