ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلہ دیش: کنٹینرز میں آگ اور دھماکے سے49 افراد ہلاک، 300 سے زائد زخمی

بنگلہ دیش: کنٹینرز میں آگ اور دھماکے سے49 افراد ہلاک، 300 سے زائد زخمی

Sun, 05 Jun 2022 18:03:13    S.O. News Service

بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ کے قریب ایک سٹوریج ڈپو میں آتشزدگی اور زبردست دھماکے میں  49 لوگ ہلاک ہوگئے جبکہ 300 سے زائد لوگ زخمی ہوگئے۔  میڈیا میں آئی رپورٹوں کے مطابق بی ایم اِن لینڈ کنٹینر ڈپو میں آگ لگنے کی واردات سنیچر  شب  کو پیش آئی  جب کیمیکل سے بھرے کنٹینر میں دھماکے شروع  ہوگئے۔

رپورٹوں کے مطابق سیتا کنڈ میں ایک مقام پر جب کئی شپنگ کنٹینرز میں آگ لگنے سے دھماکے ہوئے تو سینکڑوں لوگ وہاں آگ پر قابو پانے کے لیے پہنچے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ  آگ سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات نو بجے لگی تھی اور واقعے کے فوری بعد سینکڑوں فائر فائٹرز، پولیس اور رضاکار جائے وقوعہ پر پہنچے۔  آگ بجھانے کے لیے مدد فراہم کی جا رہی تھی کہ اس دوران وہاں موجود چند کنٹینرز میں زور دار دھماکہ ہوا جس  کے نتیجے میں  امدادی کارکنان  آگ کی لپیٹ میں آگئے  اور چند افراد دھماکے کے بعد ہوا میں اڑنے والے ملبے سے بھی زخمی اور ہلاک ہوئے۔  دھماکے میں کم از کم پانچ فائر فائٹرز بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متعدد  لوگ  زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ کئی صحافی جو دھماکے سے پہلے آگ کی رپورٹنگ کر رہے تھے لاپتہ ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے لاری ڈرائیور طفیل احمد کا بیان  درج کیا ہے، جس نے بتایا کہ  ’دھماکہ اتنا زبردست تھا کہ جہاں میں کھڑا تھا وہاں سے تقریباً 10 میٹر کے فاصلے پر جا گرا۔ میرے ہاتھ پاؤں جھلس گئے ہیں۔‘

آگ لگنے کی وجہ  معلوم نہیں ہوسکی ہے تاہم  خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ کنٹینرز میں کیمیائی مادے تھے جو آتشزدگی کا سبب بنے۔ بتایا گیا ہے کہ  بی ایم اِن لینڈ کنٹینر ڈپو بنگلہ دیش اور نیدرلینڈ کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

بنگلہ دیش کی فائر سروس اور ڈیفنس کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر جنرل معین الدین کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں سے کم از کم پانچ فائر فائٹر تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جھلس جانے والے دیگر 15 فائر فائٹرز کا علاج ہو رہا ہے۔ ’ڈپو میں پہلے دھماکے کے بعد کئی دھماکے ہوئے جس کی وجہ سے آگ پھیلی۔‘ آگ بجھانے والے عملے کی مدد کے لیے بنگلہ دیش کی فوج سے ماہرین کو بلایا گیا ہے۔ حکام اور میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکوں سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دھماکوں کی آوازیں چار کلومیٹر تک سنی گئیں۔رپورٹوں کے مطابق دھماکا اتنا بڑا تھا کہ اس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی اور آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ایک مقامی دکاندار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ملبے کا ایک ٹکڑا آدھا کلومیٹر دور تک اڑ کر ان کے تالاب میں جا گرا۔ انھوں نے دھماکے کے بعد ’آگ کے گولے بارش کی طرح گرتے ہوئے دیکھے۔‘

فائر فائٹرز اتوار کو بھی آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فائر حکام کے مطابق مسلسل دھماکوں نے آگ بجھانے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

بنگلہ دیش کی فائر سروس کے سربراہ معین الدین نے کہا کہ ’اس کیمیکل کی موجودگی کی وجہ سے ہم ابھی تک آگ پر قابو نہیں پا سکے۔‘ کیمیکل کو سمندر میں بہہ کر چلے جانے سے روکنے کے لیے فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔


Share: