ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ایران کا امریکہ پر جنگ بندی معاہدہ توڑنے کا دعویٰ، ٹرمپ کا مذاکرات سے صاف انکار

ایران کا امریکہ پر جنگ بندی معاہدہ توڑنے کا دعویٰ، ٹرمپ کا مذاکرات سے صاف انکار

Wed, 08 Jul 2026 19:53:03    S O News

واشنگٹن/تہران، 8/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملوں، ایرانی تیل کی فروخت پر دوبارہ عائد پابندیوں اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں نے جنگ بندی کے معاہدے کے اہم اور بنیادی حصوں کو غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی علاقائی سالمیت، قومی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

عباس عراقچی نے ان خلیجی ممالک کو بھی سخت انتباہ دیا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان اڈوں سے ایران پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا گیا تو ایران حملے کے مقام اور اس کے منبع کو براہ راست نشانہ بنائے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں کے قریب نگرانی کے متعدد مراکز کو نشانہ بنایا، جو جنگ بندی کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایران نے یہ بھی الزام لگایا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق بعض انتظامات کی خلاف ورزی ہوئی ہے جبکہ لبنان پر اسرائیلی حملے بھی جاری ہیں، جس کے باعث معاہدے کی افادیت شدید متاثر ہوئی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک یہ معاملہ اب ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے بات کرنا وقت کا ضیاع ہے کیونکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق اگر دونوں ممالک کے نمائندے بات چیت کرنا بھی چاہیں تو یہ ان کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دنیا اس بات پر متفق ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں ہونے چاہئیں اور ماضی میں ایک سمجھوتہ طے پانے کے باوجود ایران نے بعد میں اس سے انکار کرنے کی کوشش کی۔

اس سے قبل امریکی مرکزی کمان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کے اسی سے زائد فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں فضائی دفاعی نظام، کمان اور کنٹرول مراکز، ساحلی ریڈار، فضائی دفاعی میزائل نظام اور متعدد فوجی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔

ادھر ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی فوج کے مطابق یہ کارروائی امریکی حملوں اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے اس کے ڈرونز کی زد میں ہیں، جبکہ بحرین میں دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔


Share: