ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بریلی میں کشیدگی اور پکڑ دھکڑ کے باوجود متنازع راستے سے ہی کانوڑ یاترا کی واپسی

بریلی میں کشیدگی اور پکڑ دھکڑ کے باوجود متنازع راستے سے ہی کانوڑ یاترا کی واپسی

Tue, 25 Jul 2023 13:12:53    S.O. News Service

بریلی ، 25/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)  جوگی نوادا میں کانوڑ یاترا کے دوران مسجد کے سامنے شرانگیزی کی وجہ سے اتوار کو فرقہ وارانہ تصادم اور صورتحال کشیدہ ہونے کے باوجودپیر کو یاترااُسی متنازع راستے سے پولیس اور سی آر پی ایف کی نگرانی میں شور شرابے اور ناچتے گاتے ہوئے گزری ۔   اس بیچ اتوار کی رات سے گرفتاریوں کا جو سلسلہ شروع ہواتھا وہ پیر کو بھی جاری رہا۔ اس بیچ اتوار کو ہی گرفتارکئے گئے سابق کارپوریٹر عثمان علوی کی اہلیہ نے  پیر کو کانوڑیوں کی جانب سے پتھراؤ کی شکایت درج کرائی جس میں آدھار درجن افراد کو نامزد کیاگیاہے اور ۱۰۰؍ افراد کو نامعلوم کے زمرے میں رکھا گیاہے۔ 

 پیر کو کانوڑ یاترا کی اُسی راستے سے واپسی کی وجہ سے جوگی نوادہ علاقے میں کشیدگی رہی۔ اس دوران حالات کو سنبھالنے کیلئے پولیس کے ساتھ آر اے ایف، اور پی اے سی کے جوان بھی موجود تھے ۔  کانورئے کچھلا گھاٹ سے گنگا جل لیکر جوگی نوادا سے  ہوتے ہوئے  لوٹے ۔ اس بیچ سابق کونسلر عثمان علوی کی گرفتاری سے سماجوادی پارٹی کے لیڈر ناراض ہیں ۔ انہوں  نے  پیر کو ایس پی (کرائم) سے مل کر عثمان کو سازش میں پھنسانے کا الزام عائد کیا اورکہا کہ سابق کونسلر عثمان نے حالات کوسنبھالنے کی کوشش کی تھی لیکن لوگ نہیں مانے اور دونوں جانب سے پتھراؤ  میں کافی لوگ زخمی ہوگئے  ۔ایس پی کرائم کو میمورنڈم دینے کے ساتھ ہی سماجوادی پارٹی کے لیڈروں  نے پولیس پر یکطرفہ کارروائی کا الزام عائد کیا اور مطالبہ کیا کہ فریق ِ مخالف  کے لوگوں کے خلاف بھی کارروائی جائے۔ جوگی نوادا میں شاہ نوری مسجد کے پاس مسلم آبادی ہے اور اس سے آگے مندر کے پاس غیر مسلم آبادی ہے یہ علاقہ کانور یاترا   کے تعلق سے ہمیشہ سے حساس رہا ہے۔

حیرت انگیز طور پر اس حقیقت کے بعد بھی کہ یہ علاقہ ہمیشہ سے حساس رہاہے، پولیس کی جانب سے کانوڑ یاترا کے دوران سیکوریٹی کا خاطر خواہ نظم نہیں تھا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شاہ نوری مسجد کے سامنے سے جب کانوڑ یاترا گزری تو  ڈی جے کی فل آواز کے ساتھ دھول اڑھائی  جانے لگی ۔ ساتھ رنگ اور گولال بھی اچھالا جا رہا تھا ۔اس پر مسجد کے ذمہ داران  نے منع کیا  تو کہا سنی کی نوبت آگئی ہے اور کچھ دیر میں ہی  دونوں طرف سے اینٹ  اورپتھر چلنے لگے جس میں کئی لوگ زخمی ہوگئے۔ پولیس حرکت میں آئی تب کہیں جاکر بھیڑ منتشر ہوئی اور پھر  کچھ ہی دیر  میں ہی علاقہ میں کرفیو سا ماحول بن گیا۔پورے علاقہ کو پولیس چھاونی میں تبدیل کر دیا گیا ۔ مقامی ذمہ داران کا کہنا ہے کہ پولیس نے اگر اگر یہ  احتیاط پہلے ہی کی جاتی تو یہ صورتحال نہ پیدا ہوتی۔ 


Share: