نئی دہلی، 20؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)جوہری سپلائر گروپ(این ایس جی)کی رکنیت کے ہندوستان کی کوششوں میں چین کی طرف سے پرکریاگت راہ میں حائل رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بات کو قبول کرتے ہوئے حکومت نے آج کہا کہ وہ چین کے ساتھ اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ساتھ ہی اس نے واضح کیا کہ بھارت جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے(این پی ٹی)پرکبھی دستخط نہیں کرے گا،اگرچہ وہ تخفیف اسلحہ کیلئے مصروف عمل ہے۔لوک سبھا میں آج سپریا سولے، سوگت بوس کی تکمیل سوال کے جواب میں وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہاکہ میں نے پہلے بھی کہا تھا، آج بھی کہہ رہی ہوں، ایوان میں کہہ رہی ہوں کہ چین نے نامناسب موضوعات کو اٹھایا تھا۔چین نے کہا تھا کہ این پی ٹی پر دستخط نہیں کرنے والا ملک این ایس جی کا رکن کیسے بن سکتاہے۔اس طرح چین نے رکاوٹ کھڑی کی۔چین کے بہانے کانگریس کو گھیرے میں لیتے ہوئے سشماسوراج نے کہاکہ ایک بار کوئی نہیں مانے تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کبھی نہیں مانے گا۔ہمارے کانگریس کے دوست جی ایس ٹی پر نہیں مان رہے ہیں۔دیگر تمام لوگ مان گئے ہیں۔صرف کانگریس نہیں مان رہی ہے۔ہم منانے میں لگے ہیں۔وزیرخارجہ نے کہا کہ لیکن وہ (کانگریس)ایک بار نہیں مانے توکیاہم یہ کہیں کہ وہ کبھی نہیں مانیں گے۔ہم منانے میں لگے ہیں، ہو سکتا ہے کہ جی ایس ٹی اسی سیشن میں پاس ہوجائے۔سشما سوراج نے کہا کہ 2008میں غیر فوجی جوہری سے متعلق جو چھوٹ ہمیں ملی تھی،اس میں این پی ٹی کا رکن بنے بغیر ہی اسے آگے بڑھانے کی بات کہی گئی تھی۔انہوں نے واضح کیاکہ ہم این پی ٹی پرکبھی دستخط نہیں کریں گے۔لیکن اس کیلئے ہمارامکمل عزم ہے۔ہم اس کیلئے سابقہ حکومت کوبھی کریڈیٹ دیتے ہیں۔2008کے بعد سے چھ سال اس عزم کو سابقہ حکومت نے پورا کیا اور اس کے بعد موجودہ حکومت اس عزم کو پورا کر رہی ہے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ این ایس جی کی رکنیت کیلئے بھارت نے آدھی ادھوری نہیں بلکہ بھرپور کوشش کی۔