ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کو لے کر عدالت جائیں گے:مایاوتی

ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کو لے کر عدالت جائیں گے:مایاوتی

Wed, 15 Mar 2017 19:33:33    S.O. News Service

لکھنؤ، 15/مارچ (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بہوجن سماج پارٹی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم)سے مبینہ چھیڑ چھاڑ کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔بی ایس پی نے کہا کہ بی جے پی نے جمہوریت کا قتل کیا ہے اور اس وجہ سے ہر ماہ وہ ’یوم سیاہ‘منائے گی۔اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی کراری شکست کا جائزہ لینے کے لیے طلب کی گئی میٹنگ کے دوران بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 11/مارچ کو نتائج کا اعلان ہونے کے بعد ہماری شکایت پر مناسب جواب نہیں دیا ہے۔پارٹی نے اس معاملے میں اب عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے،تاکہ ملک کو مستقبل میں اس طرح کی دھوکہ دہی سے بچایا جا سکے اور جمہوریت کا تحفظ کیا جا سکے۔مایاوتی نے کہا کہ بی ایس پی اس دھوکہ دہی کا پردہ فاش کرنے کے لیے اتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں تحریک چھیڑے گی۔پارٹی ہر ماہ کی 11/تاریخ کو اتر پردیش اور دیگر ریاستوں کے ہیڈ کواٹر پر یوم سیاہ منائے گی، اس ضمن میں پہلا مظاہرہ 11/اپریل کو ہوگا۔قابل ذکرہے کہ بی ایس پی لیڈر نے 11/مارچ کو اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہونے کے فورا بعد منعقد ایک پریس کانفرنس میں ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کا سنگین الزام لگایا تھا، ان کا کہنا ہے کہ بے ایمانی سے حاصل کی گئی کامیابی کو چھپانے کے لیے بی جے پی اب کہہ رہی ہے کہ اگر ای وی ایم میں گڑبڑی ہوتی تو وہ پنجاب، گوا اور منی پور میں بھی ویسا ہی کر دیتی۔مایاوتی نے کہا کہ بی جے پی کو عوام کو اتنا بھولا نہیں سمجھنا چاہیے، اگر وہ دیگر ریاستوں میں بھی ایسا ہی کرتی،تو عوام کی جانب سے اٹھنے والے سوالات کا مناسب جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی اور آسانی سے گرفت میں آ جاتی۔
مایاوتی نے کہا کہ بی جے پی نے چھوٹی ریاستوں میں ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑاس لیے نہیں کی کیونکہ انہیں اپنے دفاع کے لیے بھی کچھ چاہیے تھا۔مایاوتی نے کہا کہ اتر پردیش میں بی جے پی نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ وہ کہتی تھی کہ مرکز کا راستہ اترپردیش سے ہوکر جاتا ہے،اس لیے بی جے پی نے اسی پر توجہ مرکوز کی۔اس (بی جے پی)نے ای وی ایم میں گڑبڑی کرکے کامیابی حاصل کی اور یہ جیت بے ایمانی، دھوکہ دہی اور جمہوریت کا قتل کر کے حاصل کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ پارٹی کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے بی ایس پی کو ووٹ دیاہے، لیکن ہمارے ووٹ ’کمل‘ (بی جے پی کا انتخابی نشان)میں کس طرح شامل ہوگئے؟ان کو حیرت ہے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟مایاوتی نے کہا کہ مسلمان اور دلت اکثریتی علاقوں میں بھی بی جے پی کو ووٹ ملے،بی جے پی کہتی ہے کہ تین طلاق کے معاملے پر اسے مسلمان خواتین کا ووٹ ملا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی نے ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا، اگر بی جے پی مسلم خواتین کی خیرخواہ ہوتی تو وہ کم از کم 20سے 25ٹکٹ مسلمانوں کو دیتی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس اگر ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ سے انکار کرنے کی  کوئی بنیاد ہے اور اگر وہ واقعی ایماندار اور جمہوریت کے تئیں وفادار ہے، تو اسے بی ایس پی کے الزامات سے بھاگنا نہیں چاہیے اور فوری طور پر نئے سرے سے بیلٹ پیپرکے ذریعے انتخابات کرانے چاہیے، اس سے ثابت ہو جائے گا کہ جمہوریت کا قتل کس نے کیا ہے؟پارٹی کے بانی کانشی رام کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مایاوتی نے یاد دلایا کہ کانشی رام نے درج فہرست ذات وقبائل اور دیگر پسماندہ طبقے کے لوگوں کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوششوں کو لے کر آگاہ کیا تھا۔
 


Share: