عام آدمی پارٹی نے وزیر اعظم کی تقریرکی سخت تنقیدکی،بنیادی مسائل سے فرارہونے کالگایاالزام
نئی دہلی15اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)عام آدمی پارٹی نے کہاہے کہ اگر اولمپک میں’’سب سے زیادہ بورنگ تقریر‘‘کا زمرہ ہوتا تو لال قلعہ کی فصیل سے دیئے گئے وزیر اعظم، خطاب کے لیے گولڈمیڈل حاصل کرسکتے تھے۔آپ نے مرکزمیں نیت اورپالیسی کے فقدان کا بھی الزام لگایا۔کشمیرپالیسی سے لے کر دلتوں پر مظالم تک مختلف مسائل کو لے کر مرکزی حکومت پر حملہ آور ہوتے ہوئے آپ لیڈرآشوتوش نے کہاکہ مودی کی تقریرغیرمعیاری تھی۔دہلی کے وزیر ثقافت کپل مشرا نے کہاکہ اگر اولمپکس میں سب سے زیادہ لمبی تقریر کیلئے تمغے کا انتظام ہوتا تو وزیر اعظم نریندر مودی گولڈ میڈل حاصل کر سکتے تھے۔لال قلعہ پر سوتے ہوئے کیمروں کی نظر میں آئے مرکزی وزیر ارون جیٹلی اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کی اس تصویر کے بارے میں نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ مودی کی تقریر واقعی بہت ’’تھکادینے ‘‘والی تھی ۔سسودیا نے سلسلہ وار ٹویٹ کر کے کہاکہ یہ نیت اور پالیسی کا فقدان ہی ہے جس کی وجہ سے کشمیر جل رہا ہے۔ پاکستان ہمارے گھرمیں گھس چکاہے اورکالے دھن(کو واپس لانے کا وعدہ)کوبھلا دیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ فیصلے اس لئے نہیں جا رہے ہیں کیونکہ نیت صحیح نہیں ہے۔ہریانہ جل رہا تھا اور گائے کے نام پر تشدد پھیلایا جا رہاتھا۔دلتوں پر حملے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔کسان خودکشی کر رہے ہیں اور نئی تعلیمی پالیسی معمہ بن چکی ہے۔ٹویٹ کرکے سسودیا نے الزام لگایاکہ نیت اور پالیسی کافقدان ہی ہے کہ ججوں کی تقرری نہیں ہو پا رہی ہے۔آشوتوش نے الزام لگایا کہ مودی کی حکومت میں’’بھارت کے چیف جسٹس‘‘ جذباتی ہو رہے ہیں، ماہرینِ تعلیم اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے رہے ہیں، صحافی خوف میں ہیں اور حکومتوں کوبرخاست کیاجارہاہے۔