رائے پور، 27/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی ) ’حرکت میں آنے‘‘ کے نعرہ کے ساتھ رائے پور میں کانگریس کا سہ روزہ کنونشن اتوار کو اس عزم کے ساتھ ختم ہوا کہ ’’بی جےپی کی آمریت نیز فرقہ پرستی میں اضافے اور سرمایہ کاردوستوں کو نوازنے جانے‘‘کاپوری قوت سے مقابلہ کیا جائےگا۔ اس کےساتھ ہی کانگریس نے اس کیلئے ہم خیال جماعتوں سے اتحاد کیلئے پوری طرح تیار ہونے کا بھی نعرہ دیا۔ پارٹی نے اسمبلی انتخابات کیلئے کارکنوں کو ابھی سے سرگرم ہو جانے اور عوام تک پہنچنے کا مشورہ دیا۔ ساتھ ہی اندرونِ پارٹی اتحاد اور ڈسپلن پر زور دیاگیا۔
۸۵؍ ویں پلینری سیشن کے اختتام پر اتوار کو جاری کئے گئے رائے پوراعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ ’’کانگریس واحد پارٹی ہے جس نے بی جےپی / آر ایس ایس اوراس کی سیاست سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ہم بی جے پی کی آمریت، فرقہ پرستی اور سرمایہ دار دوستوں کو نوازنے کے طرز عمل کے خلاف اپنی سیاسی قدروں کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں۔ ‘‘ پارٹی نے اس کیلئے ہم خیال جماعتوں سے اتحاد کے ساتھ ہی ساتھ ذات کی بنیاد پر مردم شماری کی بھی حمایت کی۔ بی جےپی کو شکست سے دوچار کرنے کیلئے سیاسی اتحاد قائم کرنے کےتعلق سے اعلامیہ میں واضح کیاگیاہے کہ یہ اتحاد مشترکہ ترقی پسند پروگرام ک تحت قائم ہوسکتاہے جس کا مقصد ’’آئین اوراس کی قدروں کا تحفظ نیز بڑھتی ہوئی معاشی نابرابری، سماج کے مختلف طبقات میں تیزی سے پھیل رہی دوری اور سیاسی آمریت میں اضافے سے نمٹنا‘‘ ہوگا۔
بی جے پی اور آر ایس ایس کی تقسیم کرنے والی طاقتوں کو شکست دینے کیلئے کانگریس نے بھارت جوڑو یاترا کے ایجنڈہ کو آگے بڑھانے اور مودی کی دوست حامی سرمایہ داری کے خلاف عوامی بیداری مہم چلانے کا عزم کیا ہے۔’’ رائے پور کی ہنکار‘‘ کے عنوان سے منظور کی گئی قرارداد میں پارٹی نے کہا کہ’’ بھارت جوڑو یاترا نے ہندوستان کا ایک جامع اور ترقی پسند ویژن پیش کیا ہے، جہاں آئینی اقدار سب سے اوپر ہیں۔ تنوع میں اتحاد، مساوات اور بھائی چارے کا پیغام دے کر اس نے بی جے پی کے نظریے کا واضح متبادل پیش کیا ہے۔ ‘‘
اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ چند مہینوں میں ہم کانگریس کارکنوں کی ایک اہم اور نچلی سطح کی تنظیم سیوا دل کی صد سالہ تقریب منانے جا رہے ہیں۔ یہ ہمارے بڑے پیمانے پر رابطے کے پروگراموں میں نئی توانائی ڈالنے کا موقع ہوگا۔‘‘ اس موقع پر کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے اعلان کیا کہ پارٹی مشرق سے مغرب کی جانب پاسی گڑھ سے پور بندر تک ایک اور یاترا نکانے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
پارٹی نے اعلامیہ میں کہا ہےکہ اس سال کرناٹک، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، میزورم، راجستھان اور تلنگانہ میں اہم اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ پارٹی کارکنوں اور لیڈروں کو ہماری جیت کو یقینی بنانے کیلئے نظم و ضبط، یکجہتی اور مکمل اتحاد کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان انتخابات کے نتائج ۲۰۲۴ء کے تمام اہم لوک سبھا انتخابات کی سمت طے کریں گے۔ کانگریس نے کہا کہ ’’چھتیس گڑھ، راجستھان اور ہماچل پردیش میں ہماری حکومتیں باقی ملک کیلئے مثال ہیں۔ اگر ہم صرف ۲؍ مثالیں لیں تو راجستھان کی چیف منسٹر چرنجیوی سواستھ بیمہ یوجنا اور چھتیس گڑھ کی راجیو گاندھی کسان نیائے یوجنا دیگر ریاستوں کیلئے ماڈل ہیں۔ ‘‘
پارٹی نے اپنے سنکلپ پتر میں کہا کہ ہندوستان ایک مضبوط کانگریس چاہتا ہے اور امید کرتا ہے کہ ہم لوگوں کی توقعات پر پورا اتریں گے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی تقسیم کرنے والی طاقتوں کو شکست دینے کیلئے کانگریس پارٹی کے کروڑوں کارکنوں کو بھارت جوڑو یاترا کی رفتار کو آگے بڑھانا چاہیے۔ دوست حامی کیپٹل ازم کے خلاف عوامی آگاہی مہم چلائی جائے گی جس کی مثال ملک اور دنیا دیکھ رہی ہے۔ ہم ایک مضبوط اور متحد ہندوستان کی تعمیر کیلئےایک نئے عزم اور مشترکہ مقصد کے ساتھ رائے پور کنونشن کا پیغام ہندوستان کے لوگوں تک پہنچائیں گے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ایک نئی کانگریس کا نعرہ دیتے ہوئے کارکنوں کواتحاد اور ڈسپلن کو اپنانے کی نصیحت کی۔اس سے قبل پرینکا گاندھی نے بھی ڈسپلن اور مل جل کر کام کرنے پر زور دیا۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ راہل گاندھی کی طرف سے بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ بنائے گئے راستے کو آگے بڑھائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عدم مساوات بڑھ رہی ہے اور امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے، دیہات اور شہروں کے درمیان خلیج بڑھ گئی ہے، اس کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کھرگے نے کہا کہ جو قراردادیں منظور کی گئی ہیں ان پر عمل درآمد ۲۰۲۴ء میں مرکز میں اقتدار میں آنے پر کیا جائے گا۔