ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اُدھو گروپ کی خاتون عہدیدار پر شندے گروپ کی کارکنان کا حملہ

اُدھو گروپ کی خاتون عہدیدار پر شندے گروپ کی کارکنان کا حملہ

Wed, 05 Apr 2023 12:42:24    S.O. News Service

ممبئی،5/اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) یہاں کے کاسروڈولی علاقے میں  ادھو ٹھاکرےگروپ کی خاتون ورکروں  اور’یووتی سینا‘کی لیڈر روشنی شندے  پر شندے گروپ کی خواتین ورکروں کی جانب سے حملہ کا الزام عائد کیا گیا ہےجس پر سیاست گرم ہو گئی ہے۔ اس حملے کو دیکھتے ہوئے ادھو ٹھاکرے اہلیہ رشمی ٹھاکرے اور فرزند آدتیہ ٹھاکرے کے ہمراہ روشنی شندے  سے ملاقات کرنے  اسپتال پہنچے ۔ متاثرہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سےگفتگوکرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے سوال کیا کہ یہ ’’اُپ مکھیہ منتری  ہیں یا غنڈہ منتری؟‘‘ اس کےعلاوہ  انہوںنے نائب وزیر اعلیٰ  وزیر د اخلہ کو’ فڑتس‘ کہا اور انہیں وزارت داخلہ  سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ساتھ ہی  متاثرہ کی شکایت درج نہ کرنے اور حملہ آوروں کےخلاف کارروائی نہ کرنے پر تھانے پولیس کمشنر کو معطل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ 

 ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ گزشتہ دنوں   سپریم کورٹ نے حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے اسے  ناکارہ کہا تھا اور اس کی مثال گزشتہ روز   دیکھنے بھی ملی۔ ٹھاکرے نے کہا کہ پریس کانفرنس کرنے سے پہلے جب ہم تھانے پولیس کمشنر سے ملاقات کرنے گئے تو وہ وہاں موجود نہیں تھے۔  رشمی شندے نے اپنی شکایت میں حملہ آوروں کے نام بھی دیئے ہیں  اور یہ بھی بتایا ہے کہ حاملہ ہونے کےباوجود اس کے پیٹ پر لاتوں سے مارا گیا مگر پولیس نے کوئی شکایت درج نہیں کی ہے ۔

   ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ایک  ’  فڑتس ‘ وزیر داخلہ ہمیں ملا ہے جو  اتنہائی لاچار   ہے ۔مندے (شندے)گروپ کے لوگوں نے ان( فرنویس)  ہی کے ورکروں پر حملہ کیا تھالیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ تھانے میں ہی ایک صحافی کو بھی دھمکی دی گئی تھی لیکن اس میں بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ وزیر داخلہ کے گھر کا معاملہ ہوتا ہے تو  دیگر ریاست جاکر ملزم کو گرفتار کیا جاتا۔

 ادھو ٹھاکرے کے مطابق لیکن  شندے گروپ کے خلاف کارروائی کرنے کی ان کی ہمت نہیں ہے۔ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ غنڈوں کا راج ہے۔ لہٰذا جو حالات ہیں اس سے لوگوںکے ذہن میں یہ سوال اٹھ سکتا کہ ’مکھیہ منتری‘ کہنا  چاہئے کہ ’غنڈہ منتری‘؟مجھے ایسا لگتاہے کہ اب کابینہ میں توسیع کر کے ’غنڈہ منتری ‘  کا عہدہ بھی قائم کیاجانا چاہئے ۔ ادھو ٹھاکرے نے دہرایا کہ شیو سینک خاموش  ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ تمہاری  طرح ’’ناکارہ ‘‘ ہیں۔آج بھی اسی تھانے میں مخالفین کو اکھاڑ پھینکنے والے  شیو سینک موجود ہیں۔ادھو ٹھاکرے نے مطالبہ کیاکہ وزیر داخلہ کو فوراً استعفیٰ دینا چاہئے۔اس کے ساتھ ہی ’بن کام کے کمشنر‘ کو معطل یا ٹرانسفر کیا جائے اور ایسا کمشنر تھانے کو دیا جائے جو فیصلہ کرنےاور عوام کی حفاظت کرنے کے قابل ہو۔ اس کے علاوہ کاسروڈولی پولیس اسٹیشن  جہاں یہ مارپیٹ کی واردات ہوئی ہے  اسےروشنی شندے پر حملہ آروں کے نام اور فوٹو گلی گلی میں لگانے چا ہئیں۔اس ضمن میں نائب وزیر اعلیٰ  اور داخلہ  دیویندر فرنویس نے کہاکہ ’’  مہاراشٹر کے عوام کو معلوم ہے کہ فڑتس کون ہے، اگر ہم نے منہ کھولا تو وہ بھاگ جائیں گے۔فرنویس نے خبردار کیا اور کہا کہ تحمل سے بات کریں۔  وہ جو بھی زبان بولیں، میں بھی نچلی زبان بول سکتا ہوں لیکن  میں ناگپور سے ہو ںاس لئے    میں ایسا نہیں کہوں گا۔روشنی شندے کی پٹائی کے بعد ادھو ٹھاکرے کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے فرنویس نے مزید کہا کہ  ان کے دو وزیر جیل گئے ہیں۔ جس کے اقتدار میں وزیرجیل جانے کے بعد بھی استعفیٰ دینے کی ہمت نہیں رکھتے اورجو وزیر داخلہ وازے کے پیچھے لپٹتا ہے۔ انہیں بولنے کا کوئی حق نہیں۔ ڈھائی سال گھر میں بیٹھ کر کام کرنے والا شخص ہمیں سیاست نہ سکھائے۔  ہم تحمل سے کام کرنے والے لوگ ہیں۔ ہمیں منہ کھولنے پر مجبور نہ کریں۔ فرنویس نے کہا کہ وہ مودی کی تصویر لگا کر منتخب ہوتے ہیں لیکن کرسی کے لئے کسی کے ساتھ بھی حکومت بنا لیتے ہیں ۔ اس سلسلے میں شندے گروپ کی خواتین ونگ کی لیڈر اور سابق میئر منیشا شندے نے پریس کانفرنس میں بتایاکہ  رشمی شندے کو سمجھانے کیلئے ہماری کچھ خواتین ضرور گئی تھیں لیکن وہاں کوئی مار پیٹ نہیں کی گئی ہے۔ ایم ایل سی رپورٹ   اور سول اسپتال کے سرجن نے رپورٹ میں بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی مار پیٹ کا کوئی منظر نہیں ہے۔  میناکشی شندے نے مزید کہاکہ دو روز قبل کے فیس بک فوٹیج میں وہ دوڑ دوڑ کر ناچتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے اس سے بالکل نہیں لگتا ہے کہ وہ حاملہ ہے۔


Share: