ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / جنتر منتر پر طلبہ کی خودکشیوں کے خلاف احتجاج، ابھیجیت دِپکے نے حکومت سے سخت جوابدہی اور مؤثر اقدامات کا کیا مطالبہ

جنتر منتر پر طلبہ کی خودکشیوں کے خلاف احتجاج، ابھیجیت دِپکے نے حکومت سے سخت جوابدہی اور مؤثر اقدامات کا کیا مطالبہ

Tue, 30 Jun 2026 12:57:26    S O News
جنتر منتر پر طلبہ کی خودکشیوں کے خلاف احتجاج، ابھیجیت دِپکے نے حکومت سے سخت جوابدہی اور مؤثر اقدامات کا کیا مطالبہ

نئی دہلی  ، 30/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کا احتجاج پیر کو دسویں دن میں داخل ہو گیا، جہاں تنظیم کے بانی ابھیجیت دِپکے نے حالیہ طلبہ کی خودکشیوں کے واقعات کو اجاگر کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے لیے حکومت کی جانب سے مبینہ عدم توجہی پر سخت تنقید کی۔ایکس پر جاری پوسٹس کی ایک سلسلے میں دِپکے نے پردیپ میگھوال، آکانشا چترویدی اور کاہان پٹیل سمیت متعدد طلبہ کے نام لیتے ہوئے کہا کہ ان کے اہل خانہ کو’’انصاف کی بھیک مانگنے‘‘ پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت کا کوئی نمائندہ ان خاندانوں سے اظہارِ افسوس یا تعزیت کے لیے بھی نہیں پہنچا۔ دِپکے نے کہا کہ’’میں واقعی سمجھ نہیں پاتا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ نہ صرف اتنے لاتعلق بلکہ اتنے مغرور کیسے ہو سکتے ہیں کہ اپنے بچوں کو کھونے والے خاندانوں تک پہنچنے کی ضرورت بھی محسوس نہ کریں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ’’آپ ان کے بچوں کو واپس نہیں لا سکتے، لیکن کم از کم افسوس کا اظہار اور اہل خانہ سے معافی تو مانگ سکتے ہیں۔ کیا یہ مطالبہ بہت زیادہ ہے؟‘‘ دِپکے نے NEET کے امیدوار کاہان پٹیل کے والد کے ساتھ اپنی گفتگو کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جن کے بیٹے نے ۱۸؍ جون کو خودکشی کر لی تھی۔ کاہان پٹیل کے والد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے اپنے تحفظات بیان کرنے کے لیے گجرات سے جنتر منتر پہنچے تھے۔ ویڈیو میں پٹیل کے والد نے کہا کہ ان کے بیٹے کی شخصیت کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ خاندان چاہتا ہے کہ لوگ حقیقت میں جان سکیں کہ وہ کون تھا۔

ادھر ماحولیاتی کارکن سونم وانگ چک، جو اپنی غیر معینہ بھوک ہڑتال کے دوسرے روز میں داخل ہو چکے ہیں، نے عوام سے اپیل کی کہ وہ چیف جسٹس اور لداخ سمیت مختلف عوامی مسائل کی حمایت میں ایک روزہ علامتی روزہ رکھ کر یکجہتی کا اظہار کریں۔ انہوں نے کہا کہ’’یہ چیف جسٹس اور لداخ کی حمایت میں میرے روزے کا دوسرا دن ہے۔ آپ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر یہاں نہیں آ سکتے تو تعلیم، احتساب اور ماحولیات میں اصلاحات کے مطالبات کی حمایت میں ایک دن کا روزہ رکھیں۔ پورے ہندوستان کو ملک کو بہتر بنانے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔‘‘

سونم وانگ چک نے اتوار کو جنتر منتر پر اپنی غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، جوابدہی اور لداخ سے متعلق اپنے مطالبات کے حق میں یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔ بھوک ہڑتال شروع کرنے سے قبل وہ ابھیجیت دِپکے کے ساتھ راج گھاٹ گئے اور مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وانگ چک نے کہا کہ تعلیم گزشتہ چار دہائیوں سے ان کے لیے ایک بنیادی مسئلہ رہی ہے اور جب نوجوان اس نظام کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں تو وہ خاموش نہیں رہ سکتے۔

سی جے پی کا احتجاج امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، خصوصاً NEET سے متعلق معاملات، پر مرکوز ہے۔ ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ یہ تحریک صرف تعلیم تک محدود نہیں رہے گی بلکہ انتخابی شفافیت، احتساب اور انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) جیسے دیگر معاملات کو بھی اپنے دائرہ کار میں شامل کرے گی۔ اسی سلسلے میں سی جے پی نے حال ہی میں ملک گیر’’پردھان گو بیک‘‘ مہم کا بھی آغاز کیا ہے، جس کے تحت مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تنظیم نے طلبہ، اساتذہ، کسان تنظیموں اور سول سوسائٹی سے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی ہے۔

احتجاج میں طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی شرکت بھی جاری ہے۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (AISA) سے وابستہ چھ طلبہ مرکزی اسٹیج سے الگ پنڈال میں بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں AISA کی آل انڈیا صدر نیہا، جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے جوائنٹ سیکریٹری دانش، AISA اتر پردیش کے صدر منیش، دہلی یونیورسٹی کے نائب صدر دیپک، بارک ہاسٹل جے این یو کے صدر ہریشی کیش اور امین شامل ہیں۔ اتوار کی شب ابھیجیت دِپکے نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس نے سونم وانگ چک کے لیے پورٹیبل بیت الخلا کی سہولت فراہم کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ جنتر منتر کے عوامی بیت الخلاؤں میں پانی کی فراہمی بھی موجود نہیں تھی۔ پولیس کی جانب سے اس الزام پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دِپکے نے ایک ایسے شخص کا ریلوے ٹکٹ بھی شیئر کیا جو بہار سے احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی پہنچا تھا، اور اسے ملک بھر سے ملنے والی عوامی حمایت کی مثال قرار دیا۔


Share: