ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اُترپردیش میں خاتون ٹیچر نے غیر مسلم طلبہ کے ذریعے کی مسلم طالب علم کی پیٹائی۔ معاملہ گرمانے کے بعد ٹیچر کے خلاف معاملہ درج

اُترپردیش میں خاتون ٹیچر نے غیر مسلم طلبہ کے ذریعے کی مسلم طالب علم کی پیٹائی۔ معاملہ گرمانے کے بعد ٹیچر کے خلاف معاملہ درج

Sat, 26 Aug 2023 11:17:58    S.O. News Service

لکھنؤ، 26/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی)  اترپردیش میں اسلامو فوبیا کی ایک تازہ واردات میں جہاں کئی غیر مسلم طلبہ کے ہاتھوں ایک ٹیچر نے کلاس کے ایک مسلم طالب علم کو طمانچہ رسید کرنے کی وڈیو کلپ سوشیل میڈیا پر وائرل یونے کے بعد انتظامیہ نے متعلقہ ٹیچر کے خلاف معاملہ درج کرلیا ہے۔ 

بتاتے چلیں کہ اترپردیش کے کھوبا پور گاؤں کے منصور پور پولیس تھانہ حدود میں واقع ایک اسکول میں پیش آئے واقعہ میں ایک اسکول ٹیچر کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’’جتنے بھی محمدن (یعنی مسلم) بچے ہیں مارو۔ پھر ایک کے بعد دوسرا طالب علم اگے اتے گئے اور مسلم لڑکے کے گال پر طمانچہ مارتے گئے۔ ٹیچر کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ ’’اے تم کیسے مار رہے ہو اسکو … زور سے مارو نا… چلو اور کس کا نمبر ہے‘‘ ۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ مظفر نگر کے کھوباپور گاؤں کے نیہا پبلک اسکول میں پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مختلف گوشوں سے شدید غصے اور برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ طالب علم کے والد نے اس اسکول میں اپنے بچے کی تعلیم ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بعد میں ٹیچر نے پولیس کے سامنے معذرت خواہی کرلی جبکہ لڑکے کے والد نے ٹیچر کے خلاف پولیس میں تحریری درخواست نہیں دی۔ لڑکے کے والد نے کہا کہ پولیس اور: عدالتوں کے چکر سے بچنے کے لئے انہوں نے شکایت درج نہیں کروائی۔ مظفر نگر پولیس نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں جس کے بعد مناسب کارروائی کی جائے گی۔

خاتون ٹیچر کی شرمناک حرکت پر راہل گاندھی نے کہا- ’اس سے برا کچھ نہیں‘: وڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشیل میڈیا پر واقعے کو لے کر مختلف گوشوں سے آوازیں اٹھنی شروع ہوگئیں، وہی واقعے کی سخت الفاظ میں مزمت بھی کی گئی۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد نیشنل چائلڈ رائٹس پروٹیکشن کمیشن کے چیئرمین پریانک کاننگو نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولس حکام کو ٹیچر کے خلاف معاملہ درج کرکے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی، وہیں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی، اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی سمیت کئی سیاسی لیڈران نے بھی اس واقعہ کو لے کر بی جے پی کو نشانے پر لیا۔معاملے پر بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے، کانگریس کے سابق صدر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’معصوم بچوں کے ذہنوں میں تعصب کا زہر گھولنا، اسکول جیسے مقدس مقام کو نفرت کا بازار بنانا۔ اس سے بدتر کوئی چیز نہیں ہے۔ اس سے برا ایک استادنہیں کر سکتا۔ یہ وہی مٹی کا تیل ہے جو بی جے پی نے پھیلایا ہے جس نے ہندوستان کے کونے کونے کو آگ لگا دی ہے۔ بچے ہندوستان کا مستقبل ہیں، ان میں نفرت نہیں، بلکہ محبت کا درس بھرنا ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بچے کی پٹائی کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے یوپی کی یوگی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ٹوئٹ کیا ’’یہ ویڈیو اتر پردیش کی ہے۔ ٹیچر ایک مسلمان بچے کو کلاس کے باقی بچوں سے پٹوا رہی ہے اور اسے اس پر فخر ہے۔ بچے کے والد نے بچے کو  اسکول سے نکالنے کا فیصلہ کیا اور تحریری طور پر یہ بیان دے دیا کہ وہ کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔ اویسی نے مزید لکھا، "باپ کا ماننا ہے کہ انہیں انصاف کی کوئی امید نہیں ہے اور انہیں ڈر ہے کہ ماحول خراب ہو جائے گا۔ سی ایم یوگی- جو لوگ جرم کریں گے انہیں سزا ملے گی، یہ آپ کی پالیسی ہے، ہے نا؟ اب کیوں؟ کیا پولس اس ٹیچر کو جانے دے رہی ہے؟ اس بچے کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار یوگی آدتیہ ناتھ اور اس کی نفرت انگیز سوچ ہے۔ شاید آپ اس مجرم کو لکھنؤ بلا کر انعام دیں گے۔ پولیس کا کام ہے کہ وہ جوینائل جسٹس 2015 ایکٹ کے سیکشن 75 کے تحت سخت کارروائی کرے۔‘‘

این ایچ آر سی کے چیئرمین اور نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کو ٹیگ کرتے ہوئے اویسی نے لکھا، "این سی پی سی آر فوری طور پر کسی اور جگہ کارروائی کرتا ہے، یہاں کیا ہوا؟ نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔ بچوں پر تشدد کیا جا رہا ہے،ایسے میں پولیس کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟بی جے پی کی مدھیہ پردیش حکومت نے ایک چھوٹی سی بات پر ایک اسکول کو بلڈوز کر دیا، یہاں ایک بچے کو اس کے مذہب کی بنیاد پر مارا پیٹا جا رہا ہے۔ ‘‘

نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کے چیئرمین پریانک کاننگو نے کہا، "اتر پردیش کے مظفر نگر میں ایک بچے کو ٹیچر کے ذریعہ کلاس میں دوسرے بچوں کی پٹائی کے واقعہ کی اطلاع ملی ہے۔ نوٹس لیتے ہوئے، ہدایات دی گئی ہے۔ تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ بچے کی ویڈیو شیئر نہ کریں۔ ایسے واقعات کے بارے میں ای میل کے ذریعے معلومات دیں۔ بچوں کی شناخت ظاہر کر کے  آپ جرم کا حصہ نہ بنیں۔‘‘

پرینکا کاننگو نے اسد الدین اویسی کو جواب دیتے ہوئے کہا، "اس واقعے کے حوالے سے کارروائی کی جا رہی ہے اور اس کی اطلاع بھی دی گئی ہے، آپ سے درخواست ہے کہ بچوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شئیر  نہ کریں، یہ متاثرہ بچے اور دیگر کی رازداری کی خلاف ورزی ہے۔ بچوں کی حفاظت کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ میں بچے کو انصاف دلانے کے لیے ہوں اور این سی پی سی آربچوں کی لڑائی پوری تندہی سے لڑے گا۔ "

یہ معاملہ منصور پور تھانے کے تحت خبا پور گاؤں کے اسکول سے متعلق ہے۔ سٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ستیہ نارائن پرجاپت نے کہا، "وائرل ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی گئی ہے۔ جانچ میں پتہ چلا ہے کہ یہ ویڈیو منصور پور تھانہ علاقہ کے گاؤں کا ہے۔ اس میں خاتون اپنے گھر پر اسکول چلا رہی تھی۔ یہ ویڈیو اس اسکول کی کلاس سے ہے۔ اس معاملے پر مزید تحقیقات کرتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔"

آر ایل ڈی کے سربراہ جینت چودھری نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا، "مظفر نگر کے اسکول کی ویڈیو ایک دردناک یاد دہانی ہے کہ کس طرح گہری مذہبی تقسیم پسماندہ اقلیتی برادریوں کے خلاف تشدد کو بھڑکا سکتی ہے۔ مظفر نگر سے ہمارے ایم ایل اے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یوپی پولیس سوموٹو کیس درج کرےاور بچے کی تعلیم میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔‘‘

ٹیچر کا دوسرے بچوں سے مسلم بچے کی پٹائی کروانا بی جے پی-آر ایس ایس کی نفرت بھری سیاست کا نتیجہ: ملکارجن کھرگے: سوشل میڈیا پر وائرل وڈیو پر کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ’’ٹیچر جس طرح سے ایک بچے کو دوسرے بچوں سے پٹوا رہی ہے وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی پریشان کن سیاست کا نتیجہ ہے۔

مظفرنگر ضلع میں منصورپور کے ایک گاؤں کی اس ویڈیو میں خاتون ٹیچر اپنی کلاس میں ایک بچے کو پہاڑا یاد نہ کرنے پر کلاس کے دوسرے بچوں سے پٹوا رہی ہے۔ یہی نہیں پیٹ پیٹنے والا بچہ مسلسل روتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود ٹیچر کو کوئی ترس نہ آیا۔ وہ ایک ایک کر کے بچوں کو بلاتی اور متاثرہ بچے کو تھپڑ لگواتی نظر آتی ہے۔ یہ ویڈیو منصور پور تھانہ علاقے کے کھبا پور گاؤں میں نیہا پبلک اسکول چلانے والی ٹیچر ترپتا تیاگی کا ہے۔

ملکارجن کھرگے نے ٹوئٹ کیا ’’یوپی کے اسکول میں جس طرح ایک ٹیچر نے مذہبی امتیاز کر کے ایک بچے کو دوسرے بچوں سے پٹوایا ہے، وہ آر ایس ایس-بی جے پی کی نفرت انگیز سیاست کا پریشان کن نتیجہ ہے۔ ایسے واقعات دنیا میں ہماری شبیہ پر کالک پوت دییتے ہیں۔ یہ آئین کے خلاف ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’سماج میں برسراقتدار جماعت کی تقسیم کاری کی سوچ کا زہر اتنا گھل گیا ہے کہ ایک طرف ایک تعلیم دینے والی ٹیچر ترپتا تیاگی بچپن میں ہی مذہبی دشمنی کا سبق پڑھا رہی ہے تو دوسری طرف تحفظ دینے والا آر پی ایف جوان، چیتن کمار مذہب کے نام پر بے قصوروں کی جان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

جے رام رمیش نے لکھا ’’کسی بھی طرح کی مذہبی کٹرتا اور تشدد ملک کے خلاف ہے۔ قصورواروں کو بخشنا ملک کے خلاف جرم ہے۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ اس معاملہ میں فوری طور پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور سزا دی جانی چاہئے تاکہ کوئی اور ایسا زہر گھولنے سے قبل سو بار سوچے۔‘‘


Share: