جہاز میں بیٹھنے کا خواب دیکھتی تھی روہتک کی رانی،اب ملک کو دیا’’رکشابندھن ‘‘کا تحفہ
ریو دی جنیریو،18اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بچپن میں ہوائی جہاز میں بیٹھنے کا خواب دیکھنے سے لے کر اولمپکس میں کانسے کا تمغہ جیتنے تک ہریانہ کی پہلوان ساکشی ملک نے کافی طویل سفر طے کر کے اپنا نام ملک کے کھیل تاریخ میں درج کرا لیا۔روہتک کے پاس موکھرا گاؤں کے ایک خاندان میں پیداہوئی ساکشی نے بچپن میں کبڈی اور کرکٹ کھیلا لیکن کشتی اس کا پسندیدہ کھیل بن گیا۔اس کے ماں باپ یا اس کو بھی اس وقت علم نہیں رہا ہوگا کہ ایک دن وہ اولمپک تمغہ جیتنے والی ہندوستان کی پہلی خاتون پہلوان بنے گی۔ساکشی نے تمغہ جیتنے کے بعد کہا کہ مجھے نہیں پتہ تھا کہ اولمپک کیا ہوتا ہے،میں اس لئے کھلاڑی بننا چاہتی تھی تاکہ ہوائی جہاز میں بیٹھ سکوں،اگر آپ ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہیں تو ہوائی جہاز میں سفر کر سکتے ہیں۔اس کے بڑے بھائی کا نام چمپئن کرکٹر سچن تندولکر کے نام پر رکھا گیا تھا۔اس سے دو سال بڑا سچن اسے کرکٹ کھیلنے کے لیے کہتا لیکن اس کا جواب نہ ہوتا،وہ ہوا میں اڑتے ہوائی جہاز ہی دیکھتی رہتی۔ساکشی نے کہا کہ میرے والدین نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا،جب میں نے کانسے کا تمغہ جیتنے کے بعد ان سے بات کی تو وہ خوشی کے مارے رونے لگے،میں نے کہا کہ یہ جشن منانے کا وقت ہے۔فتح کے بعد ساکشی نے ترنگا لپیٹا اور اس کے کوچ کلدیپ ملک نے اسے اٹھا لیا۔دونوں نے پورے حال کا چکر لگایا اور ناظرین نے کھڑے ہو کر اس کو سلام کیا۔اس نے کہا کہ میرے لیے یہ خواب سچ ہونے جیسا تھا،میں نے سوچا تھا کہ ایسے ہی جشن مناؤں گی۔ساکشی کے لئے سب سے مشکل وقت وہ تھا جب وہ گلاسگو میں دولت مشترکہ کھیلوں میں چاندی کا تمغہ جیتنے کی مشتاق رہی۔اس نے کہا کہ اس وقت تمام تمغے جیت رہے تھے اور اتنا دباؤ تھا کہ میڈل کے بغیر گھر لوٹنا مشکل تھا،یہاں مجھ پر اتنا دباؤ نہیں تھا،میں نے سوچا کہ ہار گئے تو کیا ہو گا لیکن جیت گئے تو کیا ہو گا،میں نے بغیر دباؤ کے کھیلا۔